تین سال سے کم عرصے میں 60 لاکھ افغان شہریوں کی واپسی حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہے: یو این
15:38, 03/09/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 16:43, 03/09/2026, جمعرات

اے ایف پی
' گزشتہ تین سال سے بھی کم عرصے میں 60 لاکھ افغان مہاجرین اپنے ملک واپس ہوئی ہے۔‘اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ‘یو این ایچ سی آر ‘نے جمعرات کو کہا کہ' گزشتہ تین سال سے بھی کم عرصے میں 60 لاکھ افغان مہاجرین اپنے ملک واپس ہوئی ہے۔‘
یو این ایچ سی آر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ 'حالیہ تاریخ میں اتنے پڑے پیمانے پر مہاجرین کی واپسی نہیں دیکھی گئی ہے'۔
ادارے نے ایکس پر مزیدلکھا کہ تمام مہاجرین کی واپسی رضاکارانہ، محفوظ اور باعزت ہونی چاہیے۔
ترکیہ کے خبر رساں ادارے انادلو کے مطابق زیادہ تر مہاجرین کی واپسی افغانستان کے پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران سے ہوئی ہے۔

x
پاکستان اور ایران میں افغان مہاجرین
یو این ایچ سی آر کے مطابق افغان مہاجرین دنیا کی سب سے بڑی مہاجر آبادیوں میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر میں 26 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین ہیں جن میں سے 22 لاکھ صرف ایران اور پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ملک کے اندر بھی 35 لاکھ افراد بے گھر ہیں۔
یو این ایچ سی آر کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک 21 لاکھ افغان ایران سے واپس آ چکے ہیں۔
پاکستان کئی دہائیوں سے ان افغان شہریوں کی میزبانی کر رہا تھا جو 1979 میں سوویت حملے اور اس کے بعد کی جنگوں کے باعث اپنے ملک سے نکلے تھے۔
اقوام متحدہ کی تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اب بھی 7 لاکھ 77 ہزار رجسٹرڈ افغان مہاجرین رہ رہے ہیں جبکہ غیر قانونی مہاجرین کی تعداد 10 لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے جون میں کہا تھا کہ اسلام آباد کی جانب سے ستمبر 2023 میں مرحلہ وار واپسی کا پروگرام شروع کرنے کے بعد سے 24 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو افغانستان واپس بھیجا جا چکا ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے مزید کہاگیا ہے کہ افغانستان گزشتہ 40 سال سے زائد عرصے سے تنازعات، قدرتی آفات، غربت اور غذائی بحران شکار ہے۔
مالی بحران اور طالبان کا موقف
اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق رواں سال افغانستان کی دو کروڑ 19 لاکھ افراد یعنی تقریباً نصف آبادی کو زندگی گزارنے کے لیے امداد کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے لیے بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے ’یونیسیف‘ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ’ غذائی قلت کے باعث افغانستان میں 10 لاکھ بچوں کی جان کو خطرہ ہے۔‘
کابل میں طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں کچھ امداد کی ضرورت ہے، ان کی واپسی کی وجہ سے دباؤ ہے لیکن طویل مدت میں اس سے افغانستان کے ساتھ ساتھ انہیں بھی فائدہ ہوگا ‘۔
یو این ایچ سی آر کے ترجمان گڈلیک نے طالبان کی حکومت کی جانب سے واپس آنے والوں کی مدد کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ’کوئی بھی ملک اس قسم کے بحران کو اکیلے نہیں سنبھال سکتا، لیکن طالبان کی خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں بین الاقوامی امداد کے حصول میں رکاوٹ ہیں’۔
جس کے جواب میں متقی نے کہا کہ’لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم جیسے معاملات افغانستان کے اندرونی معاملہ ہیں جن کو حل کرنا ہے۔‘
افغانستان میں لڑکیوں اور عورتوں کے حقوق کے حوالے سے سخت پابندیاں طالبان کے بین الاقوامی تعلقات کے لیے بڑا مسئلہ ہیں جس کی انہوں نے قیمت بھی ادا کی ہے۔