’جب چاہیں ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں‘، ٹرمپ کی ایران کو نئی وارننگ
12:18, 03/09/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 12:37, 03/09/2026, جمعرات

AFP
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ رات وائٹ ہاؤس میں ڈنر کے بعد گفتگو کرتے ہوئے۔ فائل فوٹوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں ایران کے حوالے سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ' ہم جب چاہیں ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں'۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات آبنائے ہرمز کے علاقے میں ایرانی اہداف پر امریکی فوج نے بہت کامیاب حملے کیے ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ ’گزشتہ رات ہم نے ایران کو بہت سخت مارا ہے‘۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز مکمل طور پر امریکہ کے کنٹرول میں ہے،اور روزانہ سینکڑوں تیل کے ٹینکر بغیر کسی بڑے مسئلے کے وہاں سے گزرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ایران کبھی کبھار ڈرونز حملے کر لیتے ہیں لیکن آبنائے ہرمز پر ہمارا کنٹرول بہت واضح ہے۔‘
ایران کے ایٹمی پروگرام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے اور موجودہ حالات زیادہ دیر نہیں چلے گی۔‘
ٹرمپ نے کراکس کے انتخابات کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ابھی انتخابات کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔ انہوں نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ بہت اچھا کام کر رہی ہیں اور بہت قابل احترام ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے انہیں آمریت سے بچایا اور حکومت کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں_‘
ٹرمپ کے مطابق روڈریگز بھی انتخابات چاہتی ہیں ،لیکن ملک ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہے، تاہم انہیں امید ہے کہ یہ جلد ہو جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں ایک ڈنر کے دوران خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اقتصادی پابندیوں اور حملوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان اقدامات کے بعد ایران کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔
انہوں نے ان حملوں کو اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کی مدد کے لیے 99 فیصد ضروری قرار دیا اور کہا ہے کہ ’اگر ایران کو نہ روکا گیا تو وہ پہلے اسرائیل، پھر پورے مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکی شہروں کو نشانہ بنائے گا۔‘