لبنانی علاقوں میں اسرائیلی جارحیت کا جواب پوری طاقت سے دیں گے: ایران کا امریکہ کو پیغام
14:47, 03/09/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 14:48, 03/09/2026, جمعرات

لبنانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ حزب اللہ نے علی الطاہر کے علاقے میں زیرِ زمین کمانڈ سینٹر اور اسلحے کے ذخائر قائم کر رکھے ہی۔
ایران نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان کے ان علاقوں میں جارحیت کی کوشش کی جہاں حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ ایرانی فوجی موجود ہیں تو ایران پوری طاقت سے اس کا جواب دے گا۔
ایران نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان کے ان علاقوں میں جارحیت کی کوشش کی جہاں حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ ایرانی فوجی موجود ہیں تو ایران پوری طاقت سے اس کا جواب دے گا۔
انگلینڈ کی خبر ایجنسی رائٹرز سے بات کرنے والے تین علاقائی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ ’ایران نے یہ پیغام گزشتہ ماہ امریکا تک پہنچیا۔‘ ذرائع کے مطابق جنوبی لبنان میں ایرانی فوجی اہلکار حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ موجود ہیں، جو خطے میں ایران کی براہ راست شمولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
لبنانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ حزب اللہ نے علی الطاہر کے علاقے میں زیرِ زمین کمانڈ سینٹر اور اسلحے کے ذخائر قائم کر رکھے ہی۔ جبکہ اس پہاڑی سے جنوب مشرقی لبنان کے وسیع علاقے پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ جس کے باعث یہ علاقہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کا اہم اور متنازع محاذ بن چکا ہے۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں پر اس کا کنٹرول ہے اور وہ کسی بھی اسرائیلی پیش قدمی کا مقابلہ کریں گے۔ جبکہ اسرائیلی فوج نے علی الطاہر کے جنوب میں وسیع علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے اور اس پہاڑی کو اپنی اہم آپریشنل ترجیحات میں شامل قرار دیا ہے۔ تین عہدیداروں کے مطابق تہران نے واشنگٹن کو واضع کیا کہ علی الطاہر پر مکمل اسرائیلی حملے کی صورت میں ایران بڑے پیمانے پر حملہ کرے گا۔
حزب اللہ نے اپنے علاقے میں ایرانی فورسز کی موجودگی پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے ایران کے پیغام یا امریکا کی جانب سے اسرائیل کو حملے سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی خبر کو ’غلط‘ قرار دیا۔ ایران، امریکی محکمہ دفاع اور عمان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔