پاکستانی آرمی چیف کی امریکہ اور ایران مذاکرات بحال کرنے کے لیے ’نئی تجاویز‘ پر بات چیت

17:40, 24/08/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 18:03, 24/08/2026, پیر
پاکستانی آرمی چیف کی امریکہ اور ایران مذاکرات بحال کرنے کے لیے ’نئی تجاویز‘ پر بات چیت
IRNA
فائل فوٹو

فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ اہم دورے پر تہران پہنچے ہیں۔

ترکیہ کی خبر رساں ادارے انادلو کے مطابق پاکستانی سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنے تہران کے دورے کے دوران ایرانی حکام سے نئی تجاویز پر بات کر رہے ہیں تاکہ امریکہ سے حالیہ رابطوں کے بعد تعطل کا شکار براہ راست بات چیت کو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

آرمی چیف وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ آج صبح تہران پہنچے ہیں اوراپنے سفر کا آغاز ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی سے ملاقات کے ساتھ کیا ہے۔

یہ اہم دورہ اس وقت ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایرانی تجارتی شراکت داروں کو معاشی نتائج کی دھمکی دی تھی، کیونکہ وہ نئی معاشی پابندیوں کے ذریعے ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عاصم منیر کا یہ دورہ ثالثوں کی اس نئی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد دونوں متحارب فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کے لیے واپس لانا ہے۔

17 جون کو اسلام آباد میں طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت حتمی معاہدے کے لیے 60 دن کی ڈیڈ لائن گزشتہ ہفتے ختم ہو چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی تجاویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کا شکار براہ راست مذاکرات کو بحال کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔انہوں نے مزید بتایا ہےکہ پاکستان نے قطر اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر واشنگٹن سے حالیہ رابطوں کے بعد یہ نئی تجاویز تیار کی ہیں۔ تاہم نئی تجاویز کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔

ڈیڈ لائن کے بعد سفارتی رابطے

ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور تہران نے پہلے ہی 60 دن کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد نئی جنگ شروع نہ کرنے پر خاموشی سےاتفاق کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے میڈیا ونگ کے مطابق عاصم منیر اس دورے کے دوران مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے پرامن، دیرپا اور جامع حل کے لیے کوششوں کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کریں گے۔

اتوار کو پاکستانی آرمی چیف اور ایران کے سینئر سفارتکار عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی جس میں تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تہران کا کہنا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستان 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان بنیادی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں فریقوں سے قریبی رابطے میں ہے۔

امریکہ اور ایران نے 17 جون کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے اور حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کیے تھے۔ تاہم بعد میں یہ مذاکرات سیکیورٹی گارنٹیوں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آزادی پر اختلافات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گئے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی فراہمی اور تجارت کے لیے دنیا کے سب سے اہم راستوں میں سے ایک ہے۔

8 جولائی سے 24 جولائی کے درمیان امریکہ اور ایران کے بیچ فوجی جھڑپیں ہوئیں۔ جس کے بعد واشنگٹن نے ایران کے اندر اہداف پر حملے کیے جبکہ تہران نے جواب میں اردن، بحرین اور کویت سمیت کئی عرب ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات اور سازوسامان کو نشانہ بنایا۔

8 اپریل کو جنگ بندی کروانے کے بعد پاکستان نے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں 1979 کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے اعلیٰ سطح کے براہ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کی تھی تاہم یہ مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ 28 فروری 2026 کو امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہوئی ہے اور پاکستان کی کوششوں سے 8 اپریل کو جنگ بندی اور 17 جون کو اسلام آباد میمورنڈم طے پایا جس کی 60 روزہ ڈیڈ لائن 17 اگست کو ختم ہو گئی۔

مذاکرات سیکیورٹی گارنٹیوں اور آبنائے ہرمز کے تنازعے پر رکے ہوئے ہیں۔ اب فیلڈ مارشل عاصم منیر نئی تجاویز کے ساتھ تہران میں بات چیت بحال کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔


تبصرے
Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026