بنگلہ دیش کی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی
10:23, 25/08/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 13:22, 25/08/2026, منگل

AFP
مکہ دفاعی معاہدے کے دوران تینوں ممالک کے سربراہان موجود ہیںایک اعلیٰ سفارت کار نے پیر کو بتایا کہ بنگلہ دیش نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شرکت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہمايوں کبیر نے کہا ہے کہ ہم نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ مغربی ایشیا (مشرق وسطیٰ) کے شراکت دار، پوری مسلم دنیا کے شراکت دار اب بنگلہ دیش کی قیادت کو دعوت دے رہے ہیں، خاص طور پر وزیر اعظم طارق رحمٰن کی قیادت کو کئی جگہوں پر ان کے ساتھ رہنے کی دعوت دی گئی ہے۔
ہمایوں کبیر نے کہا کہ اگر مغربی ایشیا میں کوئی ایک معاہدہ ہے، اور یہ اسلامی ممالک کے درمیان سیکیورٹی معاہدہ ہے تو وہاں جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، اس معاملے کو بہت مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے ۔
ہمايون کبیر اس سے قبل وزیراعظم طارق رحمان کے مشیر کے طور پر بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔
یاد رہے کہ ترکیہ ، سعودی عرب اور پاکستان نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ کے الصفا محل میں ایک سہ فریقی سربراہی اجلاس میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اس معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی سیکیورٹی کو مضبوط بنانا، دفاعی تعاون کو گہرا کرنے اور خطے سمیت پوری دنیا میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
اس تاریخی معاہدے پر ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے دستخط کیے تھے۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔