سابق کرکٹ کپتانوں کا عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ

13:21, 24/08/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 14:20, 24/08/2026, پیر
سابق کرکٹ کپتانوں کا عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ
AFP
سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ بات کہی۔

دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 21 سابق کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے سابق وزیراعظم اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کو دورانِ حراست مناسب طبی سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سابق بھارتی بلے بازسنیل گواسکر، انگلینڈ کے سابق کپتان الیسٹر کُک اور دیگر معروف کرکٹرز نے وزیراعظم شہباز شریف کے نام خط میں عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔

خط میں کہا گیا کہ 73 سالہ عمران خان کو گزشتہ ہفتےصرف چند گھنٹوں کے لیے اسپتال لایا گیا، جہاں سرکاری طور پر مقرر کردہ ڈاکٹروں کی ٹیم نےان کا معائنہ کیا۔

سابق کپتانوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا طبی معائنہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دیے گئے ایسے میڈیکل بورڈ سے کرایا جائے جس میں ان کے ذاتی ڈاکٹرز بھی شامل ہوں، بالخصوص ان کی دائیں آنکھ کی مبینہ کم ہوتی بینائی کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔

سابق کرکٹرز نے عمران خان کوعدالتی حکم کے مطابق ہفتہ وار ملاقات کی سہولت بلا تعطل فراہم کرنے اور میڈیکل بورڈ کی جانب سے تجویز کردہ علاج فوری طور پر شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

یہ خط سابق آسٹریلوی کپتان گریک چیپل کی جانب سے بھیجا گیا ہے، دیگر دستخط کنندگان میں انگلینڈ کے مائیکل ایتھرین،مائیکل بریئرلی، ناصر حسنین، اینڈریو اسٹراس اور ڈیوڈ گاور، انڈیا کے کپل دیو اور دلیپ وینگسرکر جبکہ آسٹریلیا کی بیلنڈا کلارک، ایڈم گلکرسٹ،اسٹیووا اور کم ہیوز شامل ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ عمران خان 73 سال کے ہیں اور تین سال سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں۔ سابق کپتانوں کےمطابق ان کے مقدمے سے متعلق قانونی اور سیاسی اختلافات اپنی جگہ، تاہم عدالت کے حکم کے مطابق طبی عمل مکمل کرانا ایک بنیادی انسانی تقاضہ ہے۔

عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے بھی حکومت کی جانب سے ان کے ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی نہ دینے پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود عمران خان کو ان کے ذاتی ڈاکٹرز سے معائنہ نہیں کروایا گیا۔

رواں سال فروری میں بھی 14 سابق کپتانوں نے عمران خان کے لیے ’انسانی سلوک اور مناسب طبی معائنہ‘ کی اپیل کی تھی۔ اس وقت عمران خان کے وکیل نے دعوی کیا ہے کہ جیل حکام کی جانب سے بروقت اقدامات نہ کیے جانے کے باعث ان کی دائیں آنکھ کی بینائی15 فیصد رہ گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے منگل کو حکومت کو ہدایت دی تھی کہ عمران خان کو معائنے کے لیے ایک نجی اسپتال منتقل کیا جائے۔ تاہم انہیں اسلام آباد کے سرکاری اسپتال میں لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں طبی طور پر فٹ قرار دیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

عمران خان اگست 2023 سے قید ہیں اور ان کے خلاف 100 سے زائد مقدمات ہیں، جن میں ریاستی راز افشا کرنے اور سرکاری تحائف کی فروخت سمیت مختلف الزامات شامل ہیں۔ عمران خان اور ان کی جماعت ان مقدمات کوسیاسی طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔

عمران خان 2018 سے 2023 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے، جبکہ اس سے قبل وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج بھی ہوئے، جن کے خلاف حکام نے کارروائیاں کیں۔

سابق کرکٹ کپتانوں نے اپنے خط میں کہا کہ کرکٹ کے میدان میں بننے والا باہمی تعلق ممالک کی سرحدوں اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہے، اسی بنیاد پر وہ عمران خان کے لیے مناسب طبی سہولیات اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہیں ہیں۔

تبصرے
Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026