اگر جنگ بڑھی تو ایران یورپ پر حملہ کرے گا: رپورٹ
12:09, 19/08/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 12:35, 19/08/2026, بدھ

اگر جنگ بڑھتی ہے تو ایران یورپ میں موجود امریکی تنصیبات پر حملہ کرے گا: رپورٹ
برطانوی اخبار فائننشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایرن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر جنگ بڑھتی ہے تو ایران یورپ میں موجود امریکی تنصیبات پر حملہ کرے گا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے ممکنہ ٹارکٹ یورپی ملک بلغاریہ اور سائپرس ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اگر جنگ کو مزید بڑھایا تو ایران یورپ میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور آبنائے ہرمز کھلی ہے اس کے بر عکس ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز تجارت کے لیے تاحال بند ہے۔
امریکہ ایران کی چھ ماہ سے جاری جنگ کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں بڑھتی تیل کی قیمت میں منگل کو پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ دنیا بھر میں کئی ممالک کی سٹاک مارکیٹس کو بھی نقصان کا سامنا رہا ہے جبکہ امریکہ کی سٹاک مارکیٹ پچھلی کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی معاہدے کی مدت پیر کو ختم ہو گئی ہے جس کے بعد ایک سینئر ایرانی عہدے دار نے انگلینڈ کی خبر ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہ ہونے کے بعد ایران کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘
یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد سے اب تک کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔
پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے کہا ہے کہ ’ایران کے ساتھ ہمارے مذاکرات ابھی جاری ہیں اور شائد یہ پہلے سے کہیں زیادہ نتیجہ خیز ہوں۔‘
یاد رہے کہ یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے شروع ہوئی تھی جو ایران کی جانب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو حملے کی دھمکی کے بعد رکی تھی۔ اس کے بعد امریکہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اگر مذاکرات مستقل طور پر کامیاب نہ ہوئے تو امریکہ ایران پر پھر حملہ کرے گا۔
امریکہ کا مقصد ایران کو جوہری پروگرام بنانے سے دور رکھنا ہے جبکہ ماہرین کے مطابق ایران سے یورینیم کو ختم کیے بنا ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس سے قبل امریکہ ایران کے یورینیم سائٹس پر حملے کر چکا ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرتے جہازں پر حملے رک گئے؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خلیجی ممالک میں حالات میں بہتری کے حوالے سے کہے جانے کے باوجود کئی ممالک نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثرہونے کی شکایت کی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں وزارت دفاع نے کہا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرتے جہازوں پر دو بیلیسٹک میزائل حملے دیکھے ہیں اور یہ حملے کی ایران کی جانب سے کیے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ دونوں میزائل سمندر میں گرے تھے لیکن ان کا مقصدے سمندر میں ٹریفک کی آمدو رفت کو متاثرکرنا تھا۔
اس کے بعد ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔‘

امریکہ ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد سے اب تک کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔
برطانوی بحری آمد و رفت پر نظر رکھنے والے ادارے کے مطابق انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز پر ایک نامعلوم پروجیکٹائل حملے کی اطلاع ملی ہے۔ اس حملے میں جہاز کے عملے سے ایک ورکر کی موت ہوئی تھی اور جہاز کے انجن روم کو نقصان ہوا تھا۔
رپورٹ کے مطابق حملے کے بعد عمانی کوسٹ گارڈز کی جانب سے باقی عملے کی مدد کی گئی تھی جبکہ ایران کی جانب سے اس حملے کے بعد کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ سمندر میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے کے مطابق منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد 10 سے بھی کم رہی۔
ایرانی مذاکرات کار اور پارلیمنٹ سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھل سکتی جب تک امریکہ ایران کی وہ شرائط نہیں مان لیتا جو جون میں ہونے والے معاہدے میں درج ہیں۔
جون میں طے پانے والے معاہدے میں جو شرائط درج ہیں ان میں امریکہ کا ایرانی پورٹس پر کے راستے میں رکاوٹ ختم کرنا، تیل کے حوالے سے لگی پابندیاں ختم کرنا، ایران کے بین الاقوامی اثاثوں پر پابندی ختم کرنا اور ایران کے خلاف ہر طرح کے ملٹری آپریش اور دھمکیوں کو بند کرنا شامل ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس نیوز کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن مذاکرات کو سرنڈر کرنا نا سمجھا جائے۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔