اسرائیل کی ہٹ دھرمی کے باوجود غزہ جنگ بندی منصوبے پر کام کر رہے ہیں: قطر
16:44, 18/08/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 17:01, 18/08/2026, منگل

AFP
فائل فوٹوقطر نے منگل کو کہا کہ وہ اسرائیلی کی ہٹ دھرمی کے باوجود غزہ کی پٹی میں طے شدہ جنگ بندی منصوبے پر مکمل عملدرآمد کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ دوحہ غزہ جنگ بندی منصوبے پر عملدرآمد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے ۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہم یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ غزہ معاہدے کے دونوں فریق طے شدہ منصوبے پر مکمل عمل کریں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ کے 15 نکاتی جنگ بندی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے اور اس پر اصرار کیا ہے کہ پہلے حماس اپنے ہتھیار ڈالے گا۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی جانب سے 31 جولائی کو جاری کردہ منصوبے میں کہا گیا ہے کہ حماس کی کو غیر مسلح کرنا اور اسرائیلی انخلا بتدریج اور ایک ساتھ ہونا چاہیے۔
امریکہ اور ایران کشیدگی پر قطر کی کوششیں
علاقائی بحران کا ذکر کرتے ہوئے الانصاری نے کہا ہے کہ قطر کی موجودہ کوششیں کشیدگی کم کرنے اور امریکہ و ایران کو مفاہمتی یادداشت اور مذاکرات کی میز پر واپس لانے پر مرکوز ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت ہماری تمام تر توجہ کشیدگی روکنے اور دونوں فریقوں کو مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر دوبارہ مذاکرات کی طرف لانے پر ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ قطر چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر معاہدہ اور غزہ میں جنگ بندی کا اعلان بیک وقت کیا جائے۔
ایرانی پائلٹس کے قطری فضائی حدود میں داخلے کے سوال پر الانصاری نے بتایا کہ قطر کو 19 مارچ کو دو میں سے ایک پائلٹ کی باقیات ملی تھیں اور بعد میں انہیں ایرانی حکام کے حوالے کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ تہران نے ابھی تک قطر کی اس پیشکش کا جواب نہیں دیا ہے جس میں ایران کو سرچ آپریشنز کے مشاہدے کے لیے تکنیکی ٹیم بھیجنے کی دعوت دی گئی تھی۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔