ایران کو سرنڈر کرنے کا کہنے والے مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں: ایرانی وزیر خارجہ
14:37, 18/08/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 16:22, 18/08/2026, منگل

AA
فائل فوٹوایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو کہا کہ ایران نے جنگ بھی جیتی اور سفارت کاری میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔
انہوں نےاس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ جن لوگوں نے شروع میں تہران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا، بعد میں وہی مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم نیوز کے مطابق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ایران نے کئی دن تک دنیا کی ایسی فوج کا مقابلہ کیا جو دنیا کو سب سے بڑی لگ رہی تھی۔ ان کے ساتھ دوسری فوجی طاقتیں بھی تھی جن کا ہم نے اس وقت مقابلہ کیا۔
انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ امریکہ کو تقریبا تمام مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ خطے کے اندر اور باہر کی کچھ دیگر ریاستوں کی حمایت بھی حاصل تھی ۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ جو لوگ غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے خواہاں تھے، جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد انہوں نے مذاکرات کی بھیک مانگی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ابتدائی طور پر جنگ بندی کی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا اور اس مقام پر پہنچنے تک لڑائی جاری رکھی ، یہاں تک کہ امریکہ ایران کی شرائط پر جنگ بندی اور مذاکرات پر راضی ہو گیا۔
عراقچی نے کہا ہے کہ ہم نے طاقت سے جنگ لڑی ہے اور طاقت سے ہی مذاکرات کیے،انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے وزرائے خارجہ نے انہیں کہا تھا کہ آپ نے جنگ اور سفارت کاری دونوں میں کامیابی حاصل کی۔
عراقچی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیر کو ایران سے ہتھیار ڈالنے اور سفید جھنڈا لہرانے کے مطالبے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔