امریکہ کا قرض پہلی بار 40 کھرب ڈالر سے زیادہ، ڈالر کی قدر تین ماہ کم ترین سطح پر

11:54, 20/08/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 15:34, 20/08/2026, جمعرات
امریکہ کا قرض پہلی بار 40 کھرب ڈالر سے زیادہ، ڈالر کی قدر تین ماہ کم ترین سطح پر
فائل فوٹو

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق امریکا کا مجموعی قومی قرض پہلی بار 40 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جس کے بعد ماہرین نے ملک کو درپیش بڑھتے ہوئے مالیاتی بحران سے متعلق نئے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سماجی بہبود کے پروگراموں، بشمول سوشل سیکیورٹی اور میڈی کیئر پر بڑھتے اخراجات اور قرضوں پر سود کی ادائیگی میں مسلسل اضافے نے وفاقی اخراجات میں نمایاں طور پر اضافہ کیا ہے، جبکہ ٹیکس میں کٹوتیوں کے باعث حکومتی آمدن اس تیزی سے نہیں بڑھ سکی۔

امریکی محکمہ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی قومی قرض 40.047 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس میں تقریباً 32.3 ٹریلین ڈالر عوام کے پاس موجود قرض اور 7.8 ٹریلین ڈالر بین الحکومتی قرض شامل ہے۔

جنوری 2017 میں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار عہدہ سنبھالا تھا تو قرض صرف 19.95 ٹریلین ڈالر تھا۔ یعنی وفاقی حکومت کا یہ قرض اب ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں دوگنا ہو چکا ہے ۔

اس اضافے کا تقریبا ایک تہائی حصہ کووڈ-19 کی وبا کے دوران ہوا، جب ٹرمپ اور سابق صدر جو بائیڈن نے وبا سے نمٹنے کے لیے دو سال تک تیزی سے قرض لیا ہے ۔ باقی اضافہ دونوں صدور کی مالیاتی پالیسیوں اور ٹیکس و اخراجات میں طویل عرصے سے موجود عدم توازن کی وجہ سے ہوا ہے ۔

بجٹ کی نگرانی کرنے والے گروپ کئی ہفتوں سے اس حد کے عبور ہونے کا اندازہ لگا رہے تھے۔ انہوں نے سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر قانون ساز پائیدار مالی صورتحال کا سامنا نہ کریں اور ٹیکس نہ بڑھائیں یا اخراجات کم نہ کریں تو مالی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

غیر جانبدار کمیٹی فار ریسپانسیبل فیڈرل بجٹ کی صدر مایا میک گینیز نے کہا ہے کہ چالیس ٹریلین ڈالر کا قرض صرف حکومت کے کھاتوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پوری معیشت میں محسوس ہوتا ہے اور کسی نہ کسی طریقے سے لوگوں کی جیبوں تک پہنچ جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ 40 ٹریلین ڈالر کا اعداد و شمار 39 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کے پانچ ماہ سے بھی کم عرصے میں پہنچ گیا تھا، جبکہ 1981 تک پہلی بار ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچنے میں 20 سال سے بھی کم عرصہ لگا ہے۔

عالمی منڈی پر اثر

عالمی سطح پر امریکی قرض دار پہلے ہی محتاط ہو رہے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مانگ کے ساتھ تقریبا ایک تہائی ٹریژریز کے پاس پچھلے سال کے دوران کمی آئی ہے۔

منگل کو 30 سالہ بانڈز کی شرح سود دو دہہائیوں میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ سرمایہ کاروں کا بھاری سرکاری قرض کے اجرا کے پیش نظر زیادہ منافع کا مطالبہ کرنا تھا۔

بدھ کو امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے طویل مدتی بانڈز کی شرح سود کم کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا اور اعلان کیا کہ 10 سے 30 سالہ بانڈز کی واپسی خریداری کو دوگنا کر کے ہر آپریشن میں کم از کم 4 ارب ڈالر کیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کا موقف

قرض کے اس بڑھتے ہوئے بوجھ کے باوجود بدھ کو ٹرمپ نے ایک بار پھر سود کی شرح کم کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

جب وائٹ ہاؤس میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکیوں کو بانڈ مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے تو ٹرمپ نے کہا کہ ہمارا ملک بہت طاقتور ہے ہم ان مضحکہ خیز شرح سود سے نکل جائیں گے۔ جب ملک مضبوط ہوتا ہے تو شرح سود خود بخود نیچے آنی چاہیے ہے ۔

ڈالر 3 ماہ کی کم ترین سطح پر

جمعرات کو امریکی ڈالر تین ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔ اس کی وجہ امریکی محکمہ خزانہ کا بانڈ مارکیٹ میں گراوٹ روکنے کے لیے ہنگامی اقدام تھا۔ جس کے بعد طویل مدتی بانڈز کی شرح سود 2007 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔

ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی پیمائش کرتا ہے، 98.894 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ یہ مئی کے وسط سے سب سے کم ترین سطح پر تھا، اسی دوران یورو 1.1674 ڈالر پر پہنچ گیا جو مئی کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

سرمایہ کار اس ہفتے عالمی بانڈ مارکیٹ میں تیزی سے فروخت ہونے والے سرکاری قرضوں کے بڑھتے ہوئے خدشات اور ایران کے خلاف امریکی اسرائیل جنگ کے خاتمے میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشے سے دوچار ہیں۔


تبصرے
Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026