امریکہ ایران جنگ عام شہریوں کی زندگی کو کس حد تک متاثر کر رہی ہے؟
12:20, 19/08/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 14:37, 19/08/2026, بدھ

AFP
فائل فوٹوایران کی جانب سے امریکہ کا جنگ میں مقابلہ کرنے کے باوجود ایرانی لیڈرز ملک کی بگڑتی معاشی صورت حال کی وجہ سے پریشان ہیں۔ ایرانی قیادت کے مطابق امریکی صدر ان پر پابندیوں میں اضافہ کر کے ان کی مشکلات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ جس کے باعث ملک میں بد امنی بڑھنے کا خدشہ ہے اور یہ اسلامی جمہوریہ ایران میں قانون کی پاسداری کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
امریکی صدر نے جمعہ کو کہا کہ وہ ایران کو معاشی طور پر بڑا نقصان پہنچائیں گے۔ جس کے ایک دن امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا تھا کہ وہ واشنگٹن اگلے ہفتے ایران پر ایسے اقدامات عائد کرے گا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے ہیں ۔
جبکہ واشنگٹن نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ وہ اقدامات کیا ہوں گے۔
انگلینڈ کی خبر ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے تین ایرانی حکام نے بتایا کہ تقریبا چھ ماہ تک جاری رہنے والے تنازعے میں ڈٹے رہنے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے باوجود ایران کو اندرون ملک شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ جس کے نتیجے میں ملک بھر میں بدامنی پھیل سکتی ہے۔
حکام کے مطابق ایران پہلے ہی مہنگائی، کمزور کرنسی، توانائی کی قلت، پابندیوں کے ہوتے ہوئے جنگ میں داخل ہوا تھا۔ اب اسے تباہ شدہ انفراسٹرکچر، متاثرہ تجارت، پیداوار میں کمی اور تعمیر نو کے اخراجات کا بھی سامنا ہے۔
اصفہان سے تعلق رکھنے والے سول انجینئر ارشیا نے کہا ہے کہ میں پریشان ہوں، اگر ٹرمپ مزید پابندیاں لگاتے ہیں تو عام لوگ کیسے زندہ رہیں گے؟ ہم پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد تعمیراتی منصوبے رک گئے ہیں۔
جنوبی شہر بندر عباس کے تاجر محسن نے بتایا ہے کہ ایران کے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں خلیجی ممالک کے ساتھ اپنی چھوٹی درآمدی برآمدی کاروبار بند کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ مجھے 10 ملازمین کو فارغ کرنا پڑا۔ اب میں اپنے خاندان کی کفالت کے لیے اپنی بچت پر انحصار کر رہا ہوں ۔
ایران کے شماریاتی ادارے کے مطابق جولائی میں ایران کی سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ صارفین کی قیمتوں میں پچھلے سال کے مقابلے میں 87.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ خوراک کی مہنگائی 128 فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔
بد امنی کا خطرہ
دو سیاسی اندرونی افراد اور ایک اہلکار کے مطابق حکمرانوں کے لیے اصل خطرہ معاشی مشکلات نہیں لیکن یہ خطرہ کہ مشکلات میں اضافہ بڑے پیمانے پر بدامنی کو جنم دیتا ہے ۔
ایک سابق اہلکار نے کہا ہے کہ پچھلے ہفتے ماضی میں ہونے والے کریک ڈاؤن میں اہم کردار ادا کرنے والے حسین طائب کو بسیج ملیشیا کا سربراہ مقرر کرنا بدامنی کی بحالی پر بڑھتی ہوئی تشویش کی واضح ترین علامتوں میں سے ایک واضح علامت ہے ۔
بسیج ایک نیم فوجی رضاکار ملیشیا ہے جو ایران کے طاقتور پاسداران انقلاب سے وابستہ ہے، جس کو مذہبی حکمرانوں نے احتجاج کو روکنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
جنوری میں معاشی مشکلات پر ملک گیر احتجاج کو آئی آر جی سی اور بسیج فورس نے کچل دیا، جس میں ہزاروں افراد کو مارے گئے۔
ایران میں جنوری کے دوران معاشی بحران کے باعث ہونے والے ملک گیر احتجاج کو آئی آر جی سی بسیج فورس نے ختم کر دیا تھا۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں لوگوں کی موت ہوئی تھی۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ایران کے حکمرانوں نے صحافیوں، وکلا، کارکنوں اور طلبہ کے خلاف گرفتاریوں، سزاؤں اور پھانسیوں میں اضافہ کیا ہے۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ایران میں صحافیوں، وکلا، طلبہ کی گرفتاری اور پھانسی دینے جیسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایرانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ یہ اقدامات جنگ کے دوران استحکام کے لیے ضروری ہیں۔
مالی بحران
ایران کے شہر یزد میں کام کرنے والے ایک سرکاری ملازم حسین نے کہا ہے کہ ’میں اپنے بچوں کے سامنے شرمندہ ہوتا ہوں، میری تنخواہ چند دنوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ گوشت اور مرغی ہمارے دسترخوان سے غائب ہو گئے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ گزارا کیسے کریں گے۔‘
مارچ میں کرایوں میں سالانہ 31 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران میں مکانات کی قیمتیں پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہیں۔
اگرچہ اس سال کم از کم اجرت میں 60 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، لیکن ریال کی قدر میں کمی سے قوت خرید کم ہوگئی ہے، مارچ کے آخر سے کم از کم اجرت کی ڈالر کی قیمت تقریباً 105 ڈالر سے گر کر 86 ڈالر پر آ گئی ہے
40 سالہ انجینئر بیژن نے بتایا ہے کہ ’15 سال قبل جب ملازمت شروع کی تو وہ بطور انجینئر تقریبا 1,000 ڈالر ماہانہ کماتے تھے۔ اس کے بعد سے اس نے آن لائن ٹیوشن کی طرف رجوع کیا ہے تاکہ وہ اپنا کام پورا کر سکے۔
اب وہ اور ان کی اہلیہ تقریباً 400 ڈالر ماہانہ کمانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور وہ تہران چھوڑ کر ایک ایسے علاقے میں جانے پر مجبور ہو گئے ہیں جہاں مہنگائی کم ہے۔
امریکی بحری ناکہ بندی
صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہماری مشکلات کئی گنا بڑھ گئی ہیں، جبکہ ہماری آمدنی بھی کم ہو گئی ہے۔
پزشکیان نے کہا ہے کہ جو سامان کبھی جہاز کے ذریعے پہنچتا تھا وہ اب ایران میں لمبا راستہ اختیار کرتا ہے، جس سے قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایران کم تیل فروخت کر رہا ہے اور تباہ شدہ یا مشکلات کا شکار کاروبارسے کم ٹیکس ریونیو اکٹھا کر رہا ہے۔
ایرانی لیبر نیوز ایجنسی( النا) کے مطابق رکن پارلیمنٹ رضا سپہوند نے بتایا ہے کہ ناکہ بندی کے باعث ایران کی پٹرول درآمدات بند ہو گئی ہیں ایران کی یومیہ پٹرول کی پیداوار 137 ملین لیٹر کے مقابلے میں تقریباً 130 ملین لیٹر تک پہنچ گئی ہے
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔