غزہ مسلسل تیسرے سال بھی امدادی کارکنوں کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک خطہ رہا: اقوام متحدہ
16:59, 19/08/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 18:25, 19/08/2026, بدھ

AA
فائل فوٹواقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور نے بدھ کو کہا کہ غزہ مسلسل تیسرے سال بھی امدادی کارکنوں کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک ترین مقام رہا، جہاں 2025 میں 186 امدادی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کا دفتر برائے امورِ انسانیت کی کوآرڈینیشن کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ سوڈان دوسرے نمبر پر ہے جہاں سال کے دوران 71 امدادی کارکن مارے گئے ہیں ۔
انسانی ہمدردی کے نتائج کے ایڈ ورکر سیکیورٹی ڈیٹا بیس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں 907 امدادی کارکن ہلاک، زخمی یا اغوا ہوئے ہیں۔ جس نے امدادی اہلکاروں کے خلاف تشدد کا ایک اور ریکارڈ قائم کیا ہے۔
اگرچہ سالانہ اموات کی تعداد پہلے کی کم ہے اس سے قبل اموات کی تعداد 350 رہ گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماتحت کام کرنے والے سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ صرف تین سال میں 1,000 سے زائد امدادی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ بالکل ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ لیکن صرف اسے کہہ دینے سے اگلے امدادی کارکن کی حفاظت نہیں ہوگی۔ ریاستوں کو بین الاقوامی انسانی قانون پر عمل کرنا ہوگا، شہریوں اور اپنے ساتھیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا ہوگا۔ اور جو لوگ قوانین توڑیں گے انہیں نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر نے کہا کہ 2026 میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے، دنیا بھر میں اب تک کم از کم 82 امدادی کارکن ہلاک، 97 زخمی اور 39 اغوا ہو چکے ہیں۔
ڈرونز سے خطرات
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سستے اور آسانی سے دستیاب مسلح ڈرونز کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں اور امدادی کارکنوں کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بن رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر کے مطابق سوڈان میں 2026 کے پہلے چار مہینوں میں شہریوں کی 80 فیصد اموات مسلح ڈرونز کے باعث ہوئیں۔ ان حملوں میں بازاروں اور صحت کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یوکرین میں صرف اپریل کے مہینے میں ڈرونز نے 80 شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ جب کہ ڈرون حملوں میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے اور روس میں شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔
کولمبیا میں 2024 اور 2025 کے درمیان ڈرون حملوں میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔
امدادی کارکن بھی ان حملوں کی زد میں آ رہے ہیں۔ مارچ میں جمہوریہ کانگو میں ایک رہائشی عمارت پر ڈرون حملے میں ایک امدادی کارکن ہلاک ہوا، جبکہ مئی میں یوکرین میں ایک ہی ہفتے کے دوران امدادی سامان کے چار قافلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔