امریکا کے ایرانی میزائل لانچرز پر حملے میں ’کئی فوجی اور عام شہریوں کی موت‘،’ایران اس حملے کا جواب دے گا
12:52, 31/08/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 12:57, 31/08/2026, پیر

سینٹ کام ایکس اکاؤنٹ
مڈل ایسٹ میں آپریشن کے دوران امریکی بحری بیڑے سے اڑان بھرتے جنگی جہاز کی تصویرامریکی افواج نے اتوار کو ایرانی جزیرے لارک پر دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق میزائل کے اس نظام کو نشانہ بنایا گیا ہے جو مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نصب کرنے اور راکٹ فائر کرنے کے لیے جا رہے تھے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے ’اہم تجارتی گزرگاہ سے جہازوں کی آمدر ورفت کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں اور اس کی حفاظت کرنے کے لیے پوری تیاری کے ساتھ موجود ہیں۔‘
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز لارک جزیرے اور عمان کے گریٹ کوئن جزیرے کے درمیان ایک مقام پر صرف 39 کلومیٹر چوڑی رہ جاتی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی حملے میں متعدد فوجی اور عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ کئی زخمی بھی ہو گئے ہیں۔
امریکہ کے جزیرے لارک پر حملے کے حوالے سے ایران نے کہا ہے کہ ’ایران اس حملے کا جواب دے گا۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں حملے کے لیے ڈرون استعمال کیے جانے کا امکان تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دعوٰی کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں اور نئی سرنگیں بچھانے پر ’ زیرو ٹارلنس‘ پالیسی اختیار کی جائے گی۔
ان کے مطابق علاقے کی نگرانی کے لیے اسپیس فورس کی ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے، جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگوں کے مقامات صرف ایران جانتا ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی فروری کے آخر میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے برقرار ہے۔ جون میں پاکستان اور قطر کی ثالثی سے مفاہمت کی یادداشت طے پانے کے باوجود جولائی میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اختلافات کے بعد امریکا نے دو ہفتوں کی بمباری اور بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کردی تھی
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔