نیپال، چائنہ میں فلیش فلڈنگ سے 472 افراد ہلاک، گلیشئر ٹوٹ کر بننے والی جھیل سے نئے سیلاب کا خطرہ

11:13, 28/08/2026, جمعہا: اپ ڈیٹ: 12:15, 28/08/2026, جمعہ
نیپال، چائنہ میں فلیش فلڈنگ سے 472 افراد ہلاک، گلیشئر ٹوٹ کر بننے والی جھیل سے نئے سیلاب کا خطرہ
AFP
نیپال کا سیلاب سے متاثرہ علاقہ ۔ فائل فوٹو

نیپال اور چائنہ کے سرحدی علاقوں میں بدھ کو آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 472 تک پہنچ گئی ہے۔ نیپال میں اب تک 469 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ چائنہ کے جنوب مغربی صوبےشیزانگ کے علاقے تبت میں تین افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے۔

نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق نیپال میں 667 افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن میں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں جبکہ چائنہ نے کہا ہے کہ تبت میں 550 سے زائد افراد لاپتہ ہیں جن میں 260 غیر ملکی شامل ہیں۔

حکام نے کہا ہے کہ اس طرح سرحد کے دونوں اطراف لاپتہ افراد کی تعداد تقریبا 1000 ہو گئی ہے جن میں 31 ممالک کے 540 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

ترکیہ کے خبر رساں ادارے انادلو کے مطابق سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بدھ کی صبح شمالی اور وسطی نیپال میں تباہی مچائی۔ جس نے بھوٹےکوشی اور تریشولی دریاؤں کے کنارے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ان میں گھروں، پُلوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بہا لے گئے اور کئی علاقوں اور سیاحوں کا ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ ختم ہو گیا ہے۔

نیپالی فوج، پولیس اور دیگر فورسز سرچ اور ریسکیو آپریشنز کر رہی ہیں۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے جبکہ کئی ٹیمیں دریاؤں کے کنارے اور زمینی علاقوں میں تلاش کر رہی ہیں۔

ٹورازم بورڈ راسووا، نواکوٹ اور دھادنگ میں موجود سیاحوں کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ سیلاب نے ٹرانسپورٹ روابط اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا، جس سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو بچانے کے لیے کیے جانے والے آپریشن کی کوششوں میں مشکل پیش آرہی ہے۔

گلیشئر ٹوٹ کر بننے والی جھیل سے نئے سیلاب کا خطرہ


چینی حکام نے جمعہ کو کہا کہ چائنہ اور نیپال سرحد پر گلیشیر کے گرنے سے بننے والی جھیل اب بھر گئی جس سے نئے سیلاب کا خدشہ ہے۔ اس وجہ سے ریسکیو آپریشن روک دیا گیا ہے۔

روئٹرزکے مطابق نیپال اور چائنہ دونوں نے جمعرات کو ہمالیہ میں سیلاب کے تازہ خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا گلیشئر ٹوٹ کر ایک اور جھیل وجود میں آگئی تھی جس کے بعد اب ایک اور سیلاب کا خطرہ ہے۔

بدھ کے اچانک سیلاب میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے بعد چائنہ کی جانب سے تبت کے علاقے کو نیپال سے ملانے والے راستے پر مزید سیلاب کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی تھی۔

چائنہ کے ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق جھیل کے پھٹنے اور پہاڑوں کے گرنے یا برفانی تودے گرنے جیسے ممکنہ حادثات کے خطرے کے پیش نظر تمام چینی ریسکیو اہلکاروں اور گاڑیوں کو محفوظ علاقے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز کی ٹیم نے بتایا ہے کہ جھیل کے ذخائر میں 2.5 ملین کیوبک میٹر پانی موجود ہے، جبکہ جھیل تقریبا 150 میٹر لمبی اور 40 سے 50 میٹر گہری ہے۔

چائنہ نے جمعرات کو خبردار کیا تھا کہ اگلے 3 دنوں میں جھیل میں مزید تین ملین کیوبک میٹر پانی شامل ہونے کی توقع ہے، جو تقریبا 1200 اولمپک سوئمنگ پولز کے برابر ہے۔

اس سے جھیل کے ٹوٹنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے اور پانی کا سب سے زیادہ بہاؤ یکم ستمبر کے آس پاس متوقع ہے۔


تبصرے
Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026