6 ماہ قبل علی خامنہ ای کی موت کے بعد سے اب تک منظر عام پر نہ آنے والے مجتبیٰ خامنہ ای کہاں ہیں؟

15:58, 28/08/2026, جمعہا: اپ ڈیٹ: 19:10, 28/08/2026, جمعہ
6 ماہ قبل علی خامنہ ای کی موت کے بعد سے اب تک منظر عام پر نہ آنے والے مجتبیٰ خامنہ ای کہاں ہیں؟
فائل فوٹو

6 ماہ قبل امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو موت اور ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے کے بعد سے اب تک وہ منظر عام پر نہیں آئے۔ اس کے اعلاوہ تاحال ان کی طرف سے کوئی براہ راست بیان بھی سامنے نہیں آیا۔ امریکہ کی جانب سے کیے گئے فضائی حملے میں مجتبیٰ خامنہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔

امریکی حملے کے بعد مجتبیٰ خامنہ کی صحت اور قیادت میں کردار کے حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ یہ سوالات امریکہ اور اسرائیل سے جنگ کے دوران ایران کی جانب سے لیے گئے ان فیصلوں کے بعد سامنے آرہے ہیں جن میں ایران کی جانب سے مڈل ایسٹ کے کئی ممالک میں حملے کیے گئے۔ جنگ کے دوران ایران کے فیصلوں سے پہلے سے خراب ایرانی معاشی حالات مزید بگڑنے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ایرانی حکام اور ملک کے دیگر سینئر ذرائع کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کا کنٹرول اب بھی برقرار ہے، حفاظتی وجوہات کی بنا پر وہ پس پردہ حکمرانی کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ زخموں سے صحت یاب ہو رہے ہیں، اور روزمرہ کے وسیع اختیارات اعلیٰ شخصیات کو سونپ دیے جو ان کے قریب ہیں۔

ایران میں سپریم لیڈر کے عہدے پر تقرری کے ایک ہفتے بعد بھی نئے رہنما کی کوئی تصویر، ویڈیو یا آڈیو پیغام سامنے نہ آنے سے عوام میں ان کی حیثیت اور کردار سے متعلق شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں۔

واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے آلکس وطنخواه کا کہنا ہے کہ اب سوال یہ نہیں رہا کہ آیا مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ایران کا کوئی فعال سپریم لیڈر موجود بھی ہے۔

ایرانی عوام کے لیے خامنہ ای کے واحد پیغامات چند تحری بیانات تھے جو نیوز براڈکاسٹرز نے پڑھ کر سنائے تھے، جبکہ وہ پچھلے ماہ اپنے والد کی ایک ہفتے تک جاری رہنے والی تدفین کی رسومات میں بھی شریک نہیں تھے۔

اعلیٰ حکام اور دیگر اندرونی ذرائع ان کی غیرموجودگی کی وجہ قتل کے خدشات کو قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اعلیٰ شخصیات سے مسلسل ملاقاتیں کرتے ہیں، تمام بڑی رپورٹس وصول کرتے ہیں اور ہر اہم معاملے پر حتمی فیصلہ کرتے ہیں۔

صدر مسعود پیزشکیان نے 10 اگست کو کہا کہ انہوں نے خامنہ ای کے ساتھ سات گھنٹے کی ملاقات کی۔

لیکن اسلامی جمہوریہ کے سخت گیر حامیوں میں بھی شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ قم کی دینی درسگاہوں کے مرکز میں موجود بسیج رضاکار ملیشیا کے ایک رکن نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے لیڈر کی آواز سننی چاہیے، یا کوئی علامت دیکھنی چاہیے کہ وہ سب سے اوپر موجود ہیں اور ملک کی قیادت کر رہے ہیں تاکہ ہمیں زیادہ اعتماد ملے۔

ایران نے اپنے سب سے طاقتور دشمنوں کے ساتھ چھ ماہ کی جنگ کا سامنا کیا ہے لیکن شدید نقصان کے بعد بھی قائم ہے ۔

اس کا سیاسی نظام برقرار ہے، اس کی فوج اب بھی عالمی توانائی کی سپلائی کو روکنے اور امریکی خلیجی اتحادیوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مذہبی اسٹیبلشمنٹ نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سپریم لیڈر اور سینئر کمانڈرز کے نقصان کو برداشت کر کے بھی نہیں گری، اور اپنی مذہبی نظریات سے وفادار سیاسی اور فوجی سلسلہ قائم رکھا ہوا ہے ۔

ایران جنگ کے باوجود قائم ہے، لیکن تیل کی ناکہ بندی اور معاشی دباؤ سے ریال کی قدر گر گئی ہے۔ جس کی وجہ سے حکومت کو مہنگائی اور عوامی احتجاج کے دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔

اس دوران حکمران اسٹیبلشمنٹ نے ریاست کو بچانے، روک تھام بحال کرنے اور ملک کے لیے عدم استحکام کا باعث بننے سے روکنے کے واضح مقصد کے گرد خود کو دوبارہ منظم کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے انقلابی گارڈز کا اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا ہے۔ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ذریعے گارڈز کے اعلیٰ کمانڈرزکے ساتھ ساتھ صدر پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف جیسی سینئر شخصیات ملکی فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔


تبصرے
Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026