’ہم سڑک پر بیٹھے مدد کا انتظار کرتے رہے‘، پمز میں 14 بچوں کی موت کے بعد کی تحقیقات جاری
11:02, 27/08/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 11:44, 27/08/2026, جمعرات

AFP
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے بعد کے مناظر۔ فائل فوٹوپاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز( پمز) میں بدھ کے روز نرسری وارڈ میں آگ لگنے سے کم از کم 14 بچے جان سے گئے ہیں۔
ترکیہ کے خبر رساں ادارے انادلو کے مطابق حکام نے کہا ہے کہ آگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ’پمز‘ کی تیسری منزل پر واقع ’مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ میں لگی۔‘
اسلام آباد کی انتظامیہ نے ابتدائی طور پر کہا ہے کہ آگ لگنے کے فورا بعد ہی اس پر قابو پالیا گیا اور 14 شدید جھلسے ہوئے بچوں کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں منتقل کر دیا گیا تھا ۔
بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف کے دفتر نے اس سانحے میں ہلاکتوں کی تصدیق کر دی تھی جبکہ وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے نجی نیوز چینل جیو نیوز کو بتایا کہ آگ ایئر کنڈیشن یونٹ میں دھماکے کی وجہ سے لگی اور وارڈ میں موجود آکسیجن کے باعث آگ زیادہ تیزی سے پھیلی۔
پاکستان کے اخبار روزنامہ ڈان کے مطابق ہسپتال کی ترجمان ڈاکٹر عنیزہ جلیل نے کہا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔
جبکہ دیگر مقامی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ہسپتال کے ائیر کنڈیشنگ سسٹم میں خرابی آگ لگنے کی وجہ ہو سکتی ہے۔
واقعے کے فوری بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے ہنگامی اجلاس بلایا جس کے بعد وزیر اعظم آفس کی جانب سے بیان جاری کیا گیا۔ بیان میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے معطل کر دیا ہے۔
وزیراعظم نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ بچوں سے متعلق ایسا واقعہ ناقابل تلافی ہے۔ واقعے کی وجوہات کا اچھی طرح سے جائزہ لینا چاہیے، ذمہ داروں کی نشاندہی کی جانی چاہیے اور سخت سے سخت کارروائی کی جا نی چاہیے۔

واقعے کی انکوائری کئے لیے کمیٹی تشکیل
اسلام آباد انتظامیہ نے بھی واقعے کی صورتحال جاننے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔
جس میں کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ ہسپتال کے حفاظتی نظام میں غفلت یا ناکامی اموات کا سبب بنی اور ذمہ داروں کی نشاندہی کرے گی ۔
رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ ملک میں حالیہ برسوں میں ہسپتالوں میں لگنے والی سب سے مہلک ترین آگ میں سے ایک ہے۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے واقعے کے حوالے سے کہا ہے کہ’ہسپتال میں آگ سے حفاظت کا نظام ہونا چاہیے اور اس واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔‘
حکومتی عہدے دار طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ ’مرنے والے بچوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے کر دی ہیں، جبکہ سات بچوں اور 10 خواتین کو بچا لیا گیا ہے۔‘
جان سے جانی والی بچی کے والد شہری خرم محمود نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میری تین دن کی بیٹی کی آگ سے موت ہو گئی، ریسکیو ٹیموں نے آنے میں گھنٹے لگائے، ہم سڑک پر بیٹھے مدد کا انتظار کر رہے تھے۔‘
نگران ادارے اکثر سرکاری سہولیات کو بدانتظامی پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے مرکز میں واقع پمز ہسپتال شہر کے تقریبا 11 لاکھ افراد کے لیے اہم ترین سرکاری ہسپتالوں میں سے ایک ہے۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔