10 سے زائد یورپی ممالک لبنانی فوج کو وسائل اور تربیت فراہم کرنے کو تیار ہیں : کایا کالاس
11:57, 02/09/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 14:05, 02/09/2026, بدھ

AFP
فائل فوٹویورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے منگل کو کہا کہ 10 سے زائد یورپی یونین کے رکن ممالک لبنان کی مسلح افواج کو وسائل، مشاورت اور تربیت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی چیف نے آئرلینڈ میں یورپی وزرائے دفاع کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس مشن کا مقصد لبنانی فوج کو مضبوط کرنا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’تاکہ لبنانی فوج ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروپ حزب اللہ کو غیر مسلح کر سکے۔‘
مغربی ممالک ایک عرصے سے لبنان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ جماعت حزب اللہ کو غیر مسلح کرے۔ حزب اللہ کو غیرمسلح کرنا لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اہم ترین عنصر ہے۔ اس کا ایک مقصد امریکہ اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کو روکنا بھی ہے۔
لبنان میں موجود اقوام متحدہ کی فورسز کا اختیار اس سال 2026 کے آخر میں ختم ہونے جا رہا ہے۔ اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ یہ اختیار ایک سال مزید رہے اور اس کے بعد اقوام متحدہ کی فورسز کو لبنان چھوڑنا پڑے گا۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یورپی یونین اقوام متحدہ کی فورسز کو کسی اور فورس سے تبدیل نہیں کرنا چاہتا۔‘
کایا کالاس نے کہا کہ ’ہمارا مقصد لبنانی مسلح افواج اور لبنانی ریاست کو مضبوط کرنا ہے تاکہ وہ اپنے پورے علاقے میں سیکیورٹی فراہم کر سکے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’منصوبہ بندی اچھی طرح سے جاری ہے اور ابھی تک ہمارے مقاصد میں مثبت پیش رفت سامنے آرہی ہے۔‘
یورپی یونین کے ایک اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ اس بلاک کا مقصد اکتوبر کے وسط میں مشن قائم کرنا ہے اور پھر 2026 کے آخر یا 2027 کے آغاز میں اہلکاروں کو تعینات کرنا ہے۔
جبکہ کایا کالاس نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یورپی یونین کے کون سے ممالک اس میں شامل ہوں گے۔
واضح رہے کہ فرانس کئی ماہ سے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا مقصد لبنانی فوج کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ فرانس نے یونیفل کے متبادل کے طور پر ایک بین الاقوامی فورس بنانے کی بھی تجویز دی ہے۔
یورپ سے تعلق رکھنے والے سینئر سفارتکار نے کہا ہے کہ اسرائیل میں اکتوبر کے آخر میں ہونے والے انتخابات سے قبل لبنان کے مستقبل پر کوئی بڑا فیصلہ ہونے کا امکان کم ہے۔
سفارتکار نے یہ بھی کہا کہ جب تک لبنانی فوج واضح طور پر مضبوط نہیں ہوتی اور وہ حزب اللہ کے سابقہ زیر کنٹرول علاقوں میں داخل نہیں ہوجاتی تواس وقت تک پیش رفت کا امکان بھی کم ہے۔