’تباہ ہوتی معیشتوں‘ کے باوجود امریکہ ایران کے ایک دوسرے پر پھر حملے شروع
15:22, 02/09/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 15:24, 02/09/2026, بدھ

تصویر: انادلو
ایران کی پاسداران انقلات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’انہوں نے اردن پر کیے گئے حملوں میں کئی امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔‘امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں جس میں گزشتہ رات امریکہ کے ایران پر حملے سے شادی کی تقریب میں موجود بچے سمیت پانچ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید بڑے حملے کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹ کام‘ کے مطابق انہوں نے ایرانی پاسدارن انقلاب کے ایئر ڈیفنس، ریڈار سسٹم اور میری ٹائم اثاثوں پر حملہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ ’منگل کو امریکی فوج نے بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی نظام کو بھی نشانہ بنایا تھا۔‘
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کے تنگ راستے سے بغیر شناخت کے گزرنے والے کئی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔
انگلینڈ کی خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایران کی جانب سے سرکاری طور پر جاری کیے گئے بیانات میں کہا گیا ہے کہ ’ایران نے بحرین، اردن، کویت اور عراق پر حملے کیے ہیں۔‘
ایران کی پاسداران انقلات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’انہوں نے اردن پر کیے گئے حملوں میں کئی امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔‘ اس کے برعکس دو سرکاری امریکی عہدے داروں نے خبر ایجنسی روئٹرز کو بتایا ہے کہ ’ابتدائی معلومات کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔‘
ایران کی پاسدارن انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے بدھ کو کویت کی ’علی ال سالم ایئربیس‘ پر امریکی کمانڈرز کی رہائش گاہ اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
کویت کی آگ بجھانے والی سروس کے مطابق انہوں نے بدھ کو ایران کی جانب سے فائر کیے گئے ڈرون حملے سے ایک رہائشی علاقے میں لگی آگ بجھانے کا کام سر انجام دیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’ایران کی جانب سے کیے گئے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘
امریکہ ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’ایران کی جانب سے ہونے والے حملے جنگ بندی کے معاملے کو مزید پیچیدہ کر رہے ہیں۔‘
قطر کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ’ان حملوں کا ذمہ دار صرف ایران ہے اور ان حملوں کے بعد جو نتائج سامنے آئیں گے ان کا ذمہ بھی ایران پر ہوگا۔‘
اردن کی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مملکت پر فائر کیے گئے 13 بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا گیا جس میں سے تین میزائلوں کو مملکت کے دور دراز علاقوں میں تباہ کیا گیا۔ دوسری جانب بحرین کا کہنا ہے کہ ’ایران کی جانب سے فائر کیے گئے میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا تھا۔‘
ایران کی پاسدارن انقلاب کے مطابق شمالی عراق میں امریکی ایئر بیسز پر حملے کیے گئے جن میں کئی امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس حملے کی عراق اور امریکہ کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی۔
امریکا اور ایران کے درمیان جولائی سے جاری جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے، تاہم دونوں ممالک نے مذاکرات میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔
رپورٹس کے مطابق جنگ سے متاثرہ ایران کی معیشت اور روایتی فوجی صلاحیتیں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ جبکہ گزشتہ ماہ خبر ایجنسی روئٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج بھی اپنی طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں کے ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر چکی ہے، جس سے مستقبل کے ممکنہ تنازعات کے لیے اس کی تیاری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
امریکہ ایران کی جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’آبنائے ہرمز پر ہمارا تقریباً مکمل کنٹرول ہے اور ایران کی معیشت تیزی سے تباہ ہو رہی ہے۔‘
’وہ صرف انجام کو ٹالنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایرانی عوام کب اٹھ کھڑے ہوں گے اور لڑیں گے؟‘
اس کے جواب میں ایران کی مشترکہ فوجی کمانڈ نے خبردار کیا ہے کہ ’خطے میں امریکی جارحیت کا ساتھ دینے والے کسی بھی ملک کو زیادہ شدید، وسیع اور تباہ کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، اور امریکی فوج سے تعاون کرنے والوں کو اس کے خطرناک نتائج قبول کرنا ہوں گے۔‘
ادھر اگرچہ واشنگٹن ایران پر مزید سخت معاشی پابندیوں کی دھمکیاں دے رہا ہے، تاہم تنازع کے باعث تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں خود امریکی معیشت پر بھی دباؤ ڈال رہی ہیں۔‘