ایس سی او اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم سمیت مختلف ممالک کے سربراہان کی شرکت
14:12, 31/08/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 15:36, 31/08/2026, پیر

Government of Pakistan
کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین کی جانب سے پاکستانی وزیر اعظم کا استقبال پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے تین روزہ سرکاری دورے پر کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق مناس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین عدیل بیک کاسیمالیف نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود ہیں۔
وزیر اعظم کی روانگی کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم کے دفترنے کہا ہے کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کریں گے اور مختلف علاقائی اور عالمی مسائل پر پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔
اس سے قبل گزشتہ روز دفتر خارجہ نے وزیر اعظم شہباز شریف کے دورے کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کے اجلاس میں شریک ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بشکیک میں قیام کے دوران وزیراعظم ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کے اجلاس اور ایس سی او پلس اجلاس میں شرکت کریں گے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق دو ستمبر کو وزیراعظم کی کرغز صدر سادر جباروف سے دوطرفہ ملاقات طے ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنما پاکستان اور کرغزستان کے دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیں گے اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی رابطوں، تعلیم، سیاحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کے طریقوں پر بات کریں گے۔
بین الاقوامی رہنماوں کی آمد
شنگھائی تعاون تنظیم ’ایس سی او‘ کے پچیس سال مکمل ہونے پر بشکیک میں ہونے والے اس دو روزہ اجلاس میں 10 سے زیادہ رہنما شریک ہو رہے ہیں۔ جن میں انڈیا ، ایران، چائنہ ، پاکستان، روس، کرغزستان، بیلاروس، قازقستان، تاجکستان ، ازبکستان، منگولیا اور افغانستان شامل ہیں۔
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کزغز رہنما صدر جاپاروف کی زیر صدارت اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان ڈائیلاگ پارٹنر کے طور پر ایس سی او اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔
چائنہ کے صدر شی جن پنگ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان پہلے ہی بشکیک پہنچ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ اگلے سال پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کی سربراہی سنبھالنے کے لیے تیار ہے، جبکہ سی ایچ ایس سربراہی اجلاس کی میزبانی بھی اسلام آباد کرے گا۔