مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا
10:42, 31/08/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 14:46, 31/08/2026, پیر

انادلو
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے اجلاس سے قبل گروپ فوٹومکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کی گئی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج استنبول میں منعقد ہوگا۔
ترک وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق اجلاس میں ترکیہ کی جانب سے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یاشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایرکیدار اوغلو شرکت کریں گے۔
پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کریں گے۔
جبکہ سعودی عرب سے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، وزیر دفاع خالد بن سلمان اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی بھی شریک ہوں گے۔
ترکیہ کے خبر رساں ادارے انادلو کے مطابق یہ کمیٹی ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور چیف آف جنرل سٹاف پر مشتمل ہے۔ اس کمیٹی کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کی جانے والی سرگرمیوں کے لیے اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
توقع ہے کہ اجلاس میں بین الاقوامی سلامتی کے مسائل کے ساتھ ساتھ دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان زیادہ سے زیادہ باہمی تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں پر غور کیا جائے گا۔
شرکاء سے یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اجلاس میں دفاعی صنعت میں تعاون کو مزید بڑھانے پر بھی بات کریں گے، جس میں مشترکہ پیداوار اور تحقیق و ترقی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کو بھی مضبوط بنانے پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں ایک خاکہ بھی تیار کیے جانے کا امکان ہے جو اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کی جانب سے طے شدہ مشترکہ سرگرمیوں کے شعبوں میں کام کی رہنمائی کے گا۔
اس کے علاوہ آئندہ دور میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے لیے ایک روڈ میپ بھی بنایا جائے گا۔
اجلاس میں اس حوالے سے بھی بات کی جائے گی کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ان تمام ممالک کے لیے اہم مواقع فراہم کرتا ہے جو خطے میں سلامتی، امن اور استحکام کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، اور مسائل کو تعاون کے ذریعے حل کرنے اور تنازع کے بجائے امن و خوشحالی کو ترجیح دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے 7 اگست کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کا مقصد علاقائی اور عالمی سطح پر سلامتی، امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔
معاہدے میں کہا گیا ہے کہ فریقین میں سے کسی ایک کے خلاف حملہ تمام فریقوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ خطے میں تعاون کی نئے رجحان کو فروغ دینے کے لیے ہے اور ان تمام ممالک کے لیے کھلا ہے جو بین الاقوامی قانون کا احترام کرتے ہیں اور پرامن تعاون کا وژن رکھتے ہیں۔