پانی خطے کی شہ رگ ہے اسے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے: شہباز شریف
13:23, 01/09/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 12:57, 02/09/2026, بدھ

حکومت پاکستان
بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم ’ایس سی او‘ کے سربراہی اجلاس سے شہباز شریف کا خطابوزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’پانی خطے کی شہ رگ ہے اور اسے کسی صورت سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم ’ایس سی او‘ کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’پائیدار امن کے بغیر خطہ اپنی حقیقی صلاحیت حاصل نہیں کر سکتا۔‘
بھارت کا نام لیے بغیر انہوں نے سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’مشترکہ دریاؤں سے متعلق معاہدے بین الاقوامی قانون کے تحت پابند عہد ہیں، جن پر لفظ اور روح دونوں کے مطابق غیرمشروط عمل ہونا چاہیے۔‘
وزیراعظم نے کہا ’پانی ہمارے خطے کی شہ رگ ہے۔ یہ کروڑوں لوگوں کی زندگی، ہماری زمینوں کی زرخیزی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے۔‘
انہوں نے زور دیا کہ ’پانی کو کبھی ہتھیار یا دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، اور نہ ہی اسے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘
انڈیا نے گزشتہ سال اپریل میں وہ معاہدہ معطل کیا تھا جس کے تحت پاکستان کے 80 فیصد زرعی رقبے کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
انڈیا نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ایک حملے میں 26 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ انڈیا کی جانب سے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس حملے میں ملوث دو لوگوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔‘
پاکستان کی جانب سے انڈین الزامات کی تردید کرتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کی گئی تھی۔
جس کے بعد انڈیا نے گزشتہ سال کشمیر میں دو ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ بنانے اور اس صلاحیت بڑھانے پر کام بھی شروع کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تین جنگیں اورکئی دیگر تنازعات ہونے کے باوجود 1960 سے دونوں ممالک نے سندھ طاس معاہدے کو برقرار رکھا ہوا ہے اب اسے انڈیا کا سندھ طاس معاہدے سے ہٹ کر پہلا عملی قدم سمجھا جا رہاہے۔
عالمی ثالثی کی عدالت نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہے، کیونکہ انڈیا کے پاس معاہدے کو ختم کرنے یا معطل کرنے کا کوئی جواز نہیں۔
انگلینڈ کی خبر ایجسنی رائٹرز کے مطابق عدالت نے کہا ہے کہ انڈیا کو معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، جن میں مغربی دریاؤں پر اپنے پن بجلی منصوبوں کی ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق امور بھی شامل ہیں۔
انڈیا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نام نہاد ثالثی عدالت کے پاس انڈیا کے خود مختار فیصلوں پر فیصلہ سنانے کا کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے اعلانات اب مستقبل میں انڈیا کی جانب سے کیے جانے والے منصوبوں پر کوئی اثر نہیں ڈالیں گے۔
عدالت نے کہا ہے کہ عالمی بینک کے مقرر کردہ ایک غیرجانبدار ماہر جولائی 2027 تک فیصلہ کرے گا کہ آیا ہمالیہ کے علاقے میں ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کی تعمیر معاہدے کے مطابق ہے یا نہیں۔