’انڈیا کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، عالمی برادری اپنی ذمہ داریاں پوری کرے‘
11:02, 27/10/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 14:03, 27/10/2026, منگل
ویب ڈیسک

Capital Metropolitan Government Peshawar
فائل فوٹوپاکستان کی اعلیٰ قیادت نے منگل کے روز انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی عوام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
ملک بھر میں یومِ سیاہ کشمیر منایا گیا تاکہ 27 اکتوبر 1947 کو سری نگر میں انڈین فوج کی داخل ہونے کے دن کو یاد کیا جائے۔
اس موقع پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’79 سال قبل سری نگر میں انڈین فوج کا داخلہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک ’المناک باب‘ کا آغاز کیا، جس کے اثرات آج بھی خطے پر نظر ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے کشمیری سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کی طویل قید پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’پاکستان کی پوزیشن انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے بلکل واضح ، مثبت اور اصولوں پر مبنی ہے۔‘
پاکستانی وزیر اعظم نے کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’کشمیر کے لوگوں نے جن میں مرد، عورتیں اور بچے شامل ہیں نے اپنے حقوق کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔‘
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ 'پاکستانی حکومت اور عوام انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ساتھ مکمل یکجتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔'
ایوان صدر میں جاری بیان میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ’انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی عوام 27 اکتوبر 1947 سے تنازع، پابندیوں اور بنیادی حقوق سے محرومی کا شکار ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’بنیادی آزادی پر مسلسل پابندیاں، بڑھتی ہوئی عسکریت، گرفتاریاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس سنگین تشویش کا باعث ہیں اور جس کو مسلسل بین الاقوامی توجہ کی ضرورت ہے۔‘
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ’وہ کشمیری عوام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔‘
’انڈیا کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کا نوٹس لے اور انڈیا پر زور دے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے اور کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت استعمال کرنے کی اجازت دے۔‘