ایران جوہری پروگرام کے معائنے پر جواب دے تقاریر نہیں: امریکی مندوب
14:48, 30/10/2026, جمعہا: اپ ڈیٹ: 14:49, 30/10/2026, جمعہ
ویب ڈیسک

ایرانی وفد سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے امریکی سفیر نے کہا کہ ’آپ کے جھوٹ یہاں کام نہیں آئیں گے۔‘
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ ’ایران کو اپنے جوہری معائنے سے متعلق ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کا الزام دوسرے ممالک پر عائد کرنے کے بجائے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔‘
الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر نے تہران پر الزام لگایا کہ وہ عالمی جوہری نگران ادارے کی جانب سے طلب کردہ معلومات فراہم کرنے اور معائنہ کرنے والوں کو رسائی دینے میں ناکام رہا ہے۔
ایرانی وفد سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے امریکی سفیر نے کہا کہ ’آپ کے جھوٹ یہاں کام نہیں آئیں گے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
مائیک والٹز کے مطابق آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ایران سے کہا ہے کہ اسے تقاریر کے بجائے سوالات کے جواب دینے چاہئیں۔
تاہم اسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رافیل گروسی نے بتایا کہ جون 2025 میں فوجی حملوں کے بعد سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایجنسی کو ایران میں معائنے معطل اور اپنے اہلکار واپس بلانا پڑے تھے۔
رافیل گروسی کے مطابق ایران نے اس سے قبل اصفہان میں اپنی یورینیم افزودگی کی تنصیب تک معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر اتفاق کیا تھا لیکن حملے شروع ہونے کے باعث معائنہ کرنے والے وہاں نہیں جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جون 2025 کے بعد سے ایجنسی کو 2025 اور 2026 کے حملوں میں تباہ ہونے والی جوہری تنصیبات کی مرمت یا ان پر دوبارہ کام شروع کرنے کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ملی۔ تاہم ان تنصیبات کی اصل حالت جاننے کے لیے موقع پر جا کر معائنہ کرنا ضروری ہے۔