ہمارے پاس میزائل کم ہو گئے ہیں، ایران کے خلاف جنگ نے امریکا کو کمزور کیا: براک اوباما
09:31, 29/10/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 09:41, 29/10/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

براک اوباما نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس جنگ نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر تہران کو دباؤ ڈالنے کی طاقت دے دی ہے۔
سابق امریکی صدر براک اوباما بدھ کو امریکی ریاست جارجیا کے شہر مورو میں ڈیموکریٹک امیدواروں سینیٹر جون اوسوف اور کیشا لانس باٹمز کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے خطاب کیا۔
براک اوباما نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواز پر تنقید کی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’تہران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں تھا۔‘ براک اوباما نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس جنگ نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر تہران کو دباؤ ڈالنے کی طاقت دے دی ہے۔
بدھ کو جارجیا کے شہر مورو میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے جنگ کے اخراجات اور اس کے نتائج پر سوال اٹھائے۔ یہ جلسہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل منعقد ہوا، جن کے لیے دونوں جماعتیں انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق اوباما نے کہا کہ ان کی انتظامیہ اور ایران کے درمیان 2015 میں ہونے والے معاہدے نے ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا ’مجھے کوئی میزائل حملہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ میں نے سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا۔‘
اوباما نے کہا ہے کہ ’یہ جنگ کیسی جا رہی ہے؟ ہمارے اتحادیوں اور فوجی اڈوں پر حملے ہوئے ہیں۔ امریکی شہری ہلاک ہوئے ہیں اور سیکڑوں امریکی زخمی ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’ہمارے میزائلوں کے ذخائر کم ہو گئے ہیں، جس سے ہم مزید غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ اب آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے، جہاں سے دنیا کا زیادہ تر تیل صارفین تک پہنچنے کے لیے گزرتا ہے۔‘
اوباما نے جنگ کو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بھی جوڑا اور کہا ’یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔‘
ان کے تازہ بیانات سے قبل اوہائیو میں بھی انہوں نے جنگ پر تنقید کرتے ہوئے ڈیموکریٹک حامیوں سے کہا تھا کہ اس تنازع نے ایران کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر ’ویٹو کا اختیار‘ دے دیا ہے۔
اوباما نے فوجی کارروائی کے لیے ٹرمپ کے جواز کو بھی چیلنج کیا اور کہا کہ سفارت کاری کے ذریعے پہلے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کیا جا چکا تھا۔