طالبان کی پابندی کے باوجود افغانستان میں افیون کی کاشت چار گنا سے زیادہ بڑھ گئی: اقوام متحدہ
14:14, 29/10/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 14:25, 29/10/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

France 24
فائل فوٹواقوام متحدہ نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ 'افغان طالبان حکومت کی افغانستان میں 2026 میں افیون کی کاشت پر پابندی کے باوجود چار گنا سے ذیادہ اضافہ ہوا ہے۔'
اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ '2025 میں کاشت کے علاقوں کا رقبہ 10 ہزار ہیکٹر سے بڑھ کر 43 ہزار ہیکٹر ہوگیا ہے جو 1 لاکھ 6 ہزار 2 سو ایکڑ ہے۔'
جبکہ افیون کی پیداوار کا تخمینہ 300 ٹن سے پانچ گنا بڑھ کر 1,500 ٹن ہو گئی۔
واضح رہے کہ 2022 میں طالبان کی حکومت کے بعد افغانستان میں افیون کی تجارت پر پابندی کے بعد میانمار اس سے آگے نکل گیا تھا۔َ
لیکن شدید غربت کی وجہ سے افغانستان کے کسان دوبارہ اس تجارت کی طرف واپس آگئے ہیں۔
افغانستان کے شمال مشرق کے ایک بائیس سالہ کسان محمد نے فرانس کے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ 'افیون کے بغیر ہم بنیادی خوراک بھی نہیں خرید سکتے ۔'

2022 کے کریک ڈاؤن کے بعد کاشت کا رقبہ 2 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ سے کم ہو کر 2025 میں 10 ہزار ہیکٹر رہ گیا تھا، اور میانمار نے 2025 میں 53 ہزار ہیکٹر پر کاشت کی تھی۔
جبکہ 2026 کا اعداد و شمار دستیاب نہیں ہے۔
طالبان انتظامیہ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ 'انہوں نے 22 ہزار ہیکٹر کی زمین تباہ کی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم نے کہا ہے کہ بہت سے اناج کو فصلوں اور دیواروں میں چھپایا گیا تھا جس کی وجہ سے پتہ لگانا مشکل تھا۔'