پنجاب حکومت نے خفیہ ریکارڈنگ کرنے والے سمارٹ گلاسز کے استعمال پر پابندی لگا دی
16:01, 21/10/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 17:19, 21/10/2026, بدھ
ویب ڈیسک

AFP
حکم نامے کے مطابق یہ چشمہ گفتگو، تصاویر، ویڈیوز اور آواز ریکارڈ کرنے، ان پر کارروائی کرنے اور انہیں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔پنجاب حکومت نے منگل کے روز خفیہ ریکارڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے کیمرے سےلیس اسمارٹ گلاسز اور روزمرہ استعمال کی اشیاء میں چھپائے گئے چھوٹے کیمروں کے استعمال اور فروخت پر30 روز کے لیے پابندی عائد کردی ہے۔
پنجاب کے محکمہ داخلہ کے سیکریٹری کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے یہ پابندی نافذ کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق 'کوئی شخص خفیہ ریکارڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے کیمرے سے لیس اسمارٹ گلاسز نہیں پہن سکے گا اور نہ ہی انہیں خرید سکے گا۔اسی طرح قلم، کی چین اور دیگر اس طرح کی روزمرہ کی اشیا جس میں خفیہ کیمرے نفذ ہوسکتے ہیں استعمال کرنے پر پابندی ہوگی۔'
تاہم اس پابندی کا اطلاق لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس ،موبائل فونز اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) سے منظور شدہ ٹرمینل آلات پر نہیں ہوگا۔
حکومت نے دکانداروں، تاجروں اور تقسیم کاروں کو بھی ان آلات کی آن لائن یا دکانوں پر فروخت کرنے سے روک دیا ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 'ان چشموں اور خفیہ کیمروں کے بے روک ٹوک استعمال سے تحفظِ عامہ بالخصوص خواتین اور بچوں کی عزت و وقار، حساس معلومات اور تنصیبات کی سیکیورٹی اور اداروں کی ساکھ کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
حکم نامے کے مطابق 'یہ آلات گفتگو، تصاویر، ویڈیوز اور آواز ریکارڈ کرنے، ان پر کارروائی کرنے اور انہیں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔'
حکومت نے ائیرپورٹس ، امتحانی مراکز، حساس سرکاری عمارتوں، طبی مراکز، شاپنگ مالز، عدالتی احاطوں اور دیگر عوامی مقامات کو خاص طور پر خطرے سے دوچار مقامات قرار دیا ہے۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ 'ان آلات کا استعمال خفیہ ریکارڈنگ، نجی زندگی میں مداخلت، سیکیورٹی کی خلاف ورزی اور محفوظ معلومات کی غیر مجاز ترسیل کے خدشات پیدا کرتا ہے۔'
واضح رہے کہ یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور 30 روز تک برقرار رہے گی، تاہم حکومت اسے اس مدت سے پہلے بھی ختم کر سکتی ہے۔
حکم نامے میں 'مجاز قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔'
دوسری جانب، ایسے آلات کے ممکنہ غلط استعمال کے خدشات کے پیش نظر لاہور ہائی کورٹ میں بھی ایک مفادِ عامہ کی درخواست زیرِ سماعت ہے، جس میں کیمرے اور مائیکروفون سے لیس اسمارٹ چشموں کی غیر منظم درآمد اور فروخت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان آلات سے لوگوں کی رازداری، عزت و وقار اور قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
خصوصاً میٹا کو مصنوعی ذہانت سے لیس اسمارٹ چشموں کے حوالے سے تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین نے ان چشموں کو ’’پرورٹ گلاسز‘‘ یعنی لوگوں کی خفیہ نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے چشمے قرار دیا ہے۔
اگرچہ میٹا نے پاکستان کو باضابطہ طور پر ان چشموں کی فروخت کی مارکیٹ کے طور پر شامل نہیں کیا۔
تاہم لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 'یہ چشمے لاہور کی دکانوں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر کھلے عام فروخت ہو رہے ہیں۔'
اس درخواست پر گزشتہ جمعرات کو سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ 'اسمارٹ چشموں کی غیر منظم درآمد اور فروخت سے متعلق سمری وفاقی کابینہ کو بھجوائی جائے۔'
