پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان طے پانے والا ’بدر معاہدہ‘ کیا ہے؟

11:01, 22/10/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 11:06, 22/10/2026, جمعرات
ویب ڈیسک
پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان طے پانے والا ’بدر معاہدہ‘ کیا ہے؟
تصویر: سعودی پریس ایجنسی
پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی پیداوار اور دفاعی صلاحیتوں میں تعاون بڑھانے کے لیے بدھ کو کثیرالجہتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی پیداوار اور دفاعی صلاحیتوں میں تعاون بڑھانے کے لیے بدھ کو کثیرالجہتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

ترک وزارت دفاع کے مطابق ’بدر مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کی تقریب قطر میں ہوئی، جس میں چاروں ممالک کے وزرائے دفاع نے شرکت کی اس دوران پاکستان کی نمائندگی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے تاحال معاہدے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا، تاہم خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ’بدر مفاہمتی یادداشت‘ کے حوالے سے اپنے اہم نکات شیئر کیے۔

بیان کے مطابق پاکستان قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون مضبوط بنانے کو اہمیت دیتا ہے۔ اس مفاہمت کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان دفاعی شعبے میں خود پر انحصار، صنعتی تعاون، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مواقع تلاش کرنے کا خواہاں ہے۔ جبکہ اس سلسلے میں چاروں ممالک کی دفاعی صنعتوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے گا اور متعلقہ ملکی و بین الاقوامی قوانین کی پابندی کی جائے گی۔

مزید کہا گیا کہ اس شراکت داری کے تحت مشترکہ تحقیق و ترقی اور صنعتی صلاحیتوں میں اضافے کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

ترکیہ اور قطر نے بھی معاہدے پر دستخط کے حوالے سے اسی نوعیت کے بیانات جاری کیے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترک وزارت دفاع نے کہا کہ ’بدر مفاہمتی یادداشت‘ کا مقصد دفاعی تعاون اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔

وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ اقتصادی لحاظ سے بھی خاصی اہمیت رکھتا ہے، جس کے تحت فوجی پیداوار میں تعاون، دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور تکنیکی فوجی تربیت، تحقیق و ترقی کے شعبوں میں اشتراک کو فروغ دیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ چاروں ممالک کی فوجی پیداوار کی منفرد صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تعاون اور انضمام کو فروغ دیا جائے گا۔ دفاعی صنعتی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور اتحادی و دوست ممالک کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

معاہدے پر ترکیہ کے وزیر دفاع یاشار گولر، قطر کے نائب وزیراعظم و وزیر مملکت برائے دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمٰن اور انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع یوسف جوہاری نے بھی دستخط کیے۔ ترکیہ کی دفاعی صنعتوں کے ادارے کے سربراہ ہالوک گورگون بھی اس موقع پر موجود تھے۔

ہالوک گورگون نے کہا کہ یہ معاہدہ مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے سٹریٹجک تعاون کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

ان کے مطابق ٹیکنالوجی کا تبادلہ، مشترکہ ترقی اور ملکی پیداواری صلاحیتوں کو مضبوط بنانا پائیدار دفاعی صنعت کے بنیادی عناصر ہیں۔ ترکیہ ایسے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو اہمیت دیتا ہے جو صرف تیار شدہ دفاعی سازوسامان کی خریداری تک محدود نہ ہو، بلکہ مقامی افرادی قوت اور صنعتی ڈھانچے کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہو۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ بدر مفاہمتی یادداشت قطر، پاکستان، انڈونیشیا اور ترکیہ کی ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتوں کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے میں مدد دے گی۔

قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق معاہدے کو ’بدر‘ کا نام دیا گیا ہے جس سے مراد چودھویں کا چاند ہے۔ یہ نام چاروں ممالک کی ایک دوسرے کی صلاحیتوں کی تکمیل کی علامت کے طور پر رکھا گیا ہے، جبکہ معاہدے کی دفاعی اور اقتصادی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق چاروں ممالک کے طے کردہ معیار کے تحت دوسرے دوست ممالک بھی اس مفاہمتی یادداشت میں شامل ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ان تینوں ممالک کے ساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں، جبکہ حالیہ مہینوں میں خصوصاً قطر اور ترکیہ کے ساتھ سفارتی روابط میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ہیں۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ قطر نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی امن و استحکام کے لیے تعاون کی کوشش قرار دیا تھا۔

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے معاملے پر پاکستان اور قطر ثالثی کی کوششوں میں بھی مصروف رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان اور ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ علاقائی چار ملکی گروپ (آر فور) کا حصہ ہیں، یہ مارچ میں سامنے آیا تھا اور اب تک متعدد اجلاس کرچکا ہے۔

رواں ہفتے وزیر داخلہ محسن نقوی نے دوحہ کے دورے کے دوران اپنے قطری ہم منصب سے ملاقات کی، جس میں قومی سلامتی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

نومبر 2025 میں قطر کے دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی تھی اور دفاعی پیداوار سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی پیشکش کی تھی۔

گزشتہ ماہ انڈونیشیا کے بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی نے راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی تھی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دونوں فریقوں نے پیشہ ورانہ تربیت دفاعی تعاون اور مشترکہ مشقوں سمیت مختلف شعبوں میں روابط مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026