پاکستان اور مالدیپ کے درمیان 20 معاہدوں پر دستخط

13:08, 21/10/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 13:12, 21/10/2026, بدھ
ویب ڈیسک
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان 20 معاہدوں پر دستخط
تصویر: پریزیڈنٹ آفس
پاکستان اور مالدیپ 1966 میں شروع ہونے والے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر مالدیپ کے صدر پاکستان پہنچے ہیں۔

مالدیپ اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے دونوں ممالک نے مفاہمتی یاداشتوں کے 20 معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔مالدیپ کے صدر محمد معیزو منگل کو اپنے 3 روزہ دورے پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچے ہیں اور ان کا یہ دورہ کسی مالدیپ کے صدر کا پاکستان کا 11 سال بعد پہلا دورہ ہے۔

پاکستان اور مالدیپ 1966 میں شروع ہونے والے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر مالدیپ کے صدر پاکستان پہنچے ہیں۔ پاکستان کے ویر اعظم شہباز شریف نے 20 معاہدوں پر دستخط ہونے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دونوں ممالک دو طرفہ تعلقات کو مظبوط بنانے کے لیے ہمیشہ کام کرتے رہں گے۔‘

وزیراعظم شہباز شریف نے مالدیپ کے صدر اور ان کے ہمراہ آنے والے وفود کا گرم جوشی سے استقبال کیا ہے۔ شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ’جزیروں کی سرزمین کے لوگوں کو تہہ دل سے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ ایک ایسی قوم ہے جس کا جذبہ اس کے گرد سمندر سے بھی زیادہ وسیع ہے۔‘

پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ’میں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ ہماری یہ ملاقات بارآور اور بات چیت کارآمد ثابت ہوئی۔‘

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملاقات میں اقتصادی اور تجارتی تعلقات، دفاعی شعبے میں سٹریٹجک تعاون اور مالدیپ کے شہریوں کو پاکستان میں پولیس، دفاع، تعلیم، صحت سمیت مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کرنے کے امور پر گفتگو ہوئی۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ’دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو موجودہ 1 کروڑ 39 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر آئندہ دو سال میں 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کی صلاحیت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔‘


شہباز شریف نے کہا کہ ’پاکستان اور مالدیپ کے درمیان انتہائی مضبوط تعلقات اور باہمی کامیابیوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے، تاہم دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ موجودہ تعلقات اقتصادی تعاون کی حقیقی صلاحیت کی عکاسی نہیں کرتے۔‘

وزیراعظم نے مالدیپ میں 50 لاکھ درخت لگانے کے منصوبے میں تعاون کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان باہمی طور پر طے شدہ مدت کے اندر ایک لاکھ زیتون کی قلمیں اور مختلف اقسام کے ایک لاکھ بیج فراہم کرے گا۔‘

انہوں نے اس سلسلے میں مالدیپ کے صدر محمد معیزو کے ذاتی تعاون پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’وہ ان معاہدوں کو عملی شکل دینے کے لیے ذاتی طور پر کام کرنے میں خوشی محسوس کریں گے، جس کے لیے بروقت فیصلوں اور تیز رفتار عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔‘

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان باہمی تعاون کے مختلف شعبوں میں تکنیکی مہارت فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے مالدیپ کی جانب سے دیگر مقامات پر ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے لیے تیزی سے پیش رفت پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔

مالدیپ کے صدر محمد معیزو نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئے دور میں لے جانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں تجارت اور سرمایہ کاری، صحت و تعلیم، ماحولیات، ماہی گیری، زراعت، نوجوانوں اور کھیلوں، پولیس اور دفاع، تربیت میں اضافے سمیت سیاحت کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہوئی۔

مالدیپ کے صدر نے 20 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’ان معاہدوں سے مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، تاہم معاہدے اسی وقت بامعنی ہوتے ہیں جب ان کے نتیجے میں عملی نتائج سامنے آئیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اگلا مرحلہ ان مفاہمتوں کو ایسے ٹھوس مواقع اور فوائد میں تبدیل کرنا ہے جن سے دونوں ممالک کے عوام مستفید ہو سکیں۔


20 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

دونوں ممالک کے سربراہان کی موجودگی میں جن 20 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔


* دفاعی تعاون

* بحری سلامتی

* انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی اور مصنوعی ذہانت میں تعاون

* غیر قانونی اسمگلنگ اور منشیات کی روک تھام

* سماجی تحفظ

* صحت اور خوراک کے نگران اداروں کے درمیان تعاون

* طبی شعبے کے ماہرین کی بھرتی

* فنی تربیت کا فروغ

* نوجوانوں اور کھیلوں کی ترقی

* فضائی رابطوں میں اضافہ

* پولیس اکیڈمیوں کے درمیان تعاون

* مالدیپ کے سول سروسز کمیشن اور پاکستان کے وفاقی پبلک سروس کمیشن اور سول سروسز اکیڈمی کے درمیان تعاون

* زراعت، تجارت، ماہی گیری، ماحولیات، تعلیم، سیاحت، فنون اور ثقافت کے شعبوں میں الگ الگ معاہدے


وزیراعظم ہاؤس میں صدر معیزو کا استقبال

مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب سے قبل صدر محمد معیزو کی وزیراعظم ہاؤس آمد پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا، جس کے بعد تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔

مالدیپ کے صدر نے وزیراعظم ہاؤس میں پودا بھی لگایا، جبکہ دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا کی گئی۔





پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026