طالبان نے افیون کی کاشت کے حوالے سے یو این کی رپورٹ کو ’غلط معلومات‘ کہہ کر مسترد کر دیا
15:28, 02/11/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 15:50, 02/11/2026, پیر
ویب ڈیسک

AFP
فائل فوٹوافغان طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کی افیون کی کاشت اور پیداوار کی حوالے سے جاری کی گئی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔
رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے طالبان کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 'یہ رپورٹ اصل صورتحال کی درست عکاسی نہیں کرتی اور افغانستان میں منشیات کے خلاف عملی کامیابیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔'
طالبان نے مزید کہا ہے کہ 'اقوام متحدہ کے ادارے نے سیٹلائٹ تصاویر، اندازوں اور متعصب گروہوں کی غلط معلومات پر انحصار کیا ہے۔'
افغانستان کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ '2026 میں جن صوبوں میں کاشت ہوئی تھی وہاں 26 ہزار ہیکٹر سے زیادہ زمین کو منشیات پیدا کرنے والی فصلوں سے صاف کیا گیا تھا۔'
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم نے جمعرات کو کہا تھا کہ ’افغانستان میں افیون کی کاشت اور پیداوار میں گزشتہ ایک سال کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔‘
ادارے نے اس اضافے کی وجہ بڑھتی ہوئی غربت کو قرار دیا، جس نے بعض کسانوں کو دوبارہ افیون کاشت کرنے پر مجبور کیا ہے۔
افغانستان اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے وقت دنیا کا سب سے بڑا افیون پیدا کرنے والا ملک اور یورپ و ایشیا میں ہیروئن کا بڑا ذریعہ تھا۔
افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے منگل کو منشیات کے خلاف جنگ کو طالبان انتظامیہ کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا تھا۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’منشیات کے مسئلے کو قابو میں رکھنے میں عالمی برادری کا بھی بڑا کردار ہے۔‘