دنیا بھر میں اعلیٰ عہدوں پر خواتین کی تعداد زیادہ ہے لیکن عدم مساوات برقرار ہے: آئی ایل او
12:55, 04/11/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 14:56, 04/11/2026, بدھ
ویب ڈیسک

PeopleImages
فائل فوٹوبین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) نے منگل کے روز کہا ہے کہ '2013 کے بعد دنیا بھر میں کمپنیوں کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن نچلی انتظامی سطحوں پر اب بھی عدم مساوات موجود ہے۔'
اقوام متحدہ کے ادارے نے رپورٹ میں کہا ہے کہ '2013 میں خواتین بورڈ چیئر کمپنیوں کی شرح 13.1 فیصد تھی جو گزشتہ سال بڑھ کر 30.9 فیصد ہو گئی، جبکہ اسی عرصے میں خواتین چیف ایگزیکٹو کی شرح 23.4 فیصد سے بڑھ کر 28.2 فیصد ہو گئی۔'
لیکن رپورٹ میں بتایا گیا کہ 'مجموعی طور پر کارپوریٹ ڈھانچے میں خواتین کی نمائندگی اب بھی کم ہے۔ '
جبکہ عالمی سطح پر انتظامی عہدوں میں خواتین کا حصہ صرف 30.5 فیصد ہے، جو 2000 میں 24.5 فیصد تھا۔
آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ہونگبو نے ایک بیان میں کہا کہ 'صنفی برابری ایک بنیادی حق ہے۔'
انہوں نے مزید کہا کہ 'اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ یہ پائیدار کاروبار اور معاشی ترقی کا ایک طاقتور محرک بھی ہے۔'
واضح رہے کہ یہ رپورٹ 99 ممالک کی 11 ہزار 957 کمپنیوں کے سروے پر مبنی ہے۔
اس رپورٹ میں صنفی برابری کے وعدوں اور زمین پر ان کے عملی نفاذ کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ '2025 میں تقریباً تین چوتھائی کمپنیوں کے پاس صنفی برابری اور ڈائورسٹی کی پالیسی موجود تھی، لیکن زچگی کی چھٹی اور مساوی تنخواہ جیسے اقدامات پر عمل درآمد کرنے والی کمپنیوں کی شرح 2018 میں 37.4 فیصد سے کم ہو کر گزشتہ سال 26.5 فیصد رہ گئی۔'
آئی ایل او کی ماریا پاز انزوریگوئے نے کہا ہے کہ 'ایسے وقت میں جب ادارے ٹیلنٹ کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں، خواتین کی صلاحیت کو نظر انداز کرنا کاروباری طور پر درست نہیں ہے۔'
واضح رہے کہ اس رپورٹ میں خواتین کے لیے لیڈرشپ پائپ لائنز کو مضبوط بنانے، صنفی اعدادوشمار اور رضا کارانہ اہداف کا استعمال، اور ان کرداروں تک خواتین کی رسائی کو بہتر بنانے کی سفارش کی گئی ہے جہاں اب بھی ان کی نمائندگی کم ہے۔