امریکہ میں مقیم افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کرنے کے پلان پر طالبان کا اظہار تشویش
11:31, 03/11/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 11:32, 03/11/2026, منگل
ویب ڈیسک

امریکا میں مقیم 150 سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے افغانستان بھیجا جائے گا۔
افغان طالبان حکومت نے پیر کو امریکہ میں مقیم درجنوں افغان تارکینِ وطن کو پاکستان کے راستے ان کے وطن واپس بھیجنے کے مبینہ منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس اور ایک ایڈوکیسی گروپ کے مطابق امریکا میں مقیم 150 سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے افغانستان بھیجا جائے گا۔
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ایک بیان میں کہا کہ ’اسلامی امارت افغانستان کو ان رپورٹس پر شدید تشویش ہے کہ امریکا بعض ایسے افغان پناہ گزینوں کو پاکستان بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے جو تاحال وہاں قانونی رہائش کی دستاویزات حاصل نہیں کرسکے۔‘
کچھ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ ’امریکا کے سابق اتحادیوں اور ان کے اہل خانہ کو واپس بھیجنے سے ان کی زندگیاں خطرے میں پڑسکتی ہیں۔‘
اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان حکومت نے مغربی حمایت یافتہ افواج اور حکومتوں کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہریوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا۔ رواں سال بھی طالبان حکام نے بارہا یقین دہانی کرائی کہ ان کے سابق مخالفین بحفاظت وطن واپس آسکتے ہیں۔
تاہم اقوام متحدہ نے ماورائے عدالت قتل، حراست میں لیے جانے اور بدسلوکی کے واقعات سے متعلق رپورٹس ریکارڈ کی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے گزشتہ سال امیگریشن کے خلاف وسیع اقدامات کے تحت افغانستان سمیت متعدد ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کی تھیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے افغان شہریوں کو ملک بدر کیے جانے سے تحفظ فراہم کرنے والے اقدامات ختم کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ ان افغانوں میں بعض ایسے افراد شامل ہیں جنہیں سال 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد خصوصی امیگرنٹ ویزے دیے گئے تھے۔