ایک فیصد سے بھی کم امیر ترین لوگ دنیا کی آدھی آبادی سے زیادہ آلودگی پیدا کر رہے ہیں: رپورٹ
14:35, 27/10/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 15:28, 27/10/2026, منگل
ویب ڈیسک

AFP
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1990 سے اب تک عالمی حدت میں 20 فیصد اضافے کے ذمہ دار دنیا کے امیر ترین ایک فیصد ہیںدنیا کے امیر ترین 0.1 فیصد افراد جن کی تعداد تقریباً 80 لاکھ بنتی ہے دنیا کی غریب ترین تین لاکھ 50 کروڑ کی آبادی کے مجموعی آلودگی سے بھی زیادہ پیدا کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کے امیر ترین 0.1 فیصد افراد میں شامل ایک شخص موجودہ شدید گرمی کی لہروں میں غریب ترین 50 فیصد عالمی آبادی کے ایک فرد کے مقابلے میں تقریباً 400 گنا زیادہ حصہ ڈالتا ہے۔ ان امیر ترین افراد کا مجموعی کاربن اخراج سب صحاراافریقہ کی پوری آبادی کے اخراج کے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1990 سے اب تک عالمی حدت میں 20 فیصد اضافے کے ذمہ دار دنیا کے امیر ترین ایک فیصد ہیں۔ جبکہ ان کاربن اخراج انسانیت کے غریب ترین نصف حصے کے مقابلے 100 گنا زیادہ ہے۔
امیر ترین ایک فیصد افراد کے صرف ایک سال کے کاربن اخراج کے نتیجے میں شدید گرمی سے ہونے والی اموات میں 19 لاکھ تک اضافی اموات ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ میں مزید اندازہ لگایا گیا ہے کہ امیر ترین ایک فیصد افراد کے کاربن اخراج کے باعث 2050 تک تقریباً 53 ہزار ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔
کاربن آلودگی میں عدم مساوات کی ایک نمایاں مثال نجی طیاروں کو قرار دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نجی جیٹ طیارے صرف دو سیکنڈ میں اتنا کاربن خارج کرتے ہیں جتنا دنیا کی غریب ترین نصف آبادی میں شامل ایک شخص پورے سال میں پیدا کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انتہائی امیر افراد کاربن آلودگی میں غیر متناسب طور پر زیادہ حصہ ڈالتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب، آتش زدگی اور غذائی قلت جیسے بحرانوں کا سب سے زیادہ بوجھ عام لوگوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث 2050 تک ایک ارب افراد، یعنی دنیا کی تقریباً 10 فیصد آبادی، بے گھر ہو سکتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق گلوبل ساؤتھ سے متوقع ہے جس میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے متعدد ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔
آکسفیم انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امیتابھ بہار نے کہا کہ ’موسمیاتی بحران کو اکثر پوری انسانیت کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بحران کے ذمہ دار لوگ ہیں، وہی اپنے گھر، فصلیں اور بالآخر اپنی زندگیاں کھو رہے ہیں، جبکہ انتہائی امیر افراد اپنی دولت کے ذریعے خطرات سے بچ نکلتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’انتہائی امیر افراد نہ صرف آلودگی کے نتائج سے متاثرہ دنیا میں دولت کماتے ہیں بلکہ اس آلودگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحرانوں سے بھی منافع حاصل کرتے ہیں۔‘
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی آفات کو ایسی پالیسیوں کے فروغ کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے جو عدم مساوات میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔‘
’ان میں سرکاری اثاثوں اور خدمات کی نجکاری، زمینوں پر قبضے، ضابطوں میں نرمی اور انتہائی امیر افراد کے لیے ٹیکس میں چھوٹ شامل ہیں۔‘