امریکہ نے سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف حملہ کرنے سے انکار کر دیا: رپورٹ
11:30, 13/09/2026, اتوارا: اپ ڈیٹ: 11:50, 13/09/2026, اتوار
ویب ڈیسک

رائٹرز
فائل فوٹوامریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکزیوس نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ امریکہ نے سعودی عرب کی اس اپیل کو مسترد کر دیا ہے جس میں حوثی باغیوں کی جانب سے ساحلی شہر’ مخا ‘پر قبضے کے بعد ان کے خلاف براہ راست فوجی حملے کی درخواست کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو بار رابطہ کیا اور یمنی حوثیوں کے خلاف کارروائی کی درخواست کی۔ کیونکہ باغی گروہ باب المندب آبنائے کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا۔
سعودی رہنما نے پہلے اتحادی یمنی دستوں کی پیچھے ہٹنے کے بارے میں آگاہ کیا اور پھر کچھ گھنٹوں بعد براہِ راست فوجی مداخلت کی باقاعدہ اپیل کی۔
ذرائع نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ’ ٹرمپ نے یہ درخواست مسترد کر دی تاکہ ایران اور آبنائے ہرمز پر اسٹریٹجک توجہ برقرار رکھی جا سکے اور ایک نیا جنگی محاذ کھولنے سے گریز کیا جا سکے۔‘
براہ راست فضائی حملوں کو مسترد کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے سعودی عرب کو غیر مسلح مدد فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ امریکہ نے سعودی افواج کو قابلِ عمل انٹیلی جنس اور اہداف کی معلومات فراہم کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔
امریکہ نے اسی دن امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کو سعودی دفاعی حکام کے ساتھ مشاورت کے لیے سعودی عرب بھی بھیجا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
سعودی سفیر عبدالعزیز الواصل نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ہفتے جنوبی سعودی شہروں میں شہری مقامات پر حوثی حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے ہیں، مملکت اس کے جواب میں ’ تمام ضروری اقدامات‘ کرے گی۔‘
باب المندب آبنائے کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے شہر مخا اور اس کے اردگرد کے ساحلی علاقے پر کنٹرول انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا ایک اہم تجارتی اور بحری راستہ ہے۔
یمن میں جولائی کے اوائل سے حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان فوجی کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔ جس نے اپریل 2022 میں طے پانے والے امن معاہدے کے بعد امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
حوثی ستمبر 2014 سے یمن کے دارالحکومت صنعا اور شمالی و مغربی علاقوں پر قابض ہیں جبکہ حکومت اور اتحادی افواج ملک کے جنوب اور مشرق میں موجود ہیں۔
مارچ 2015 سے سعودی عرب یمن کی حکومت کی حمایت کے لیے ایک اتحادی فوج کی قیادت کر رہا ہے۔ سعودی عرب کا الزام ہے کہ حوثیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔