ایران کا آبنائے ہرمز میں خودکار امریکی آبدوز پکڑنے کا دعویٰ
13:26, 09/09/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 13:28, 09/09/2026, بدھ
ویب ڈیسک

فائل فوٹو
ایران کا آبنائے ہرمز میں خودکار امریکی آبدوز پکڑنے کا دعویٰ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی خودکار آبدوز قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق قبضے لی گئی ’ڈائیو ایل ڈی‘ نامی آبدوز امریکی دفاعی کمپنی اینڈوریل کی تیار کردہ 19 فٹ (5.8میٹر) لمبی ہے اور یہ خودکار نظام کے تحت چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسدارن انقلاب نے کہا ہے کہ ’ہم نے دشمن امریکہ کی سب سے جدید آبدوز کو آبنائے ہرمز کے داخلی راستے سے پکڑ لیا ہے۔‘
اس کے جواب میں امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ’ایک روز قبل زیر سمندر ڈرون ناکارہ ہو گیا تھا۔‘
امریکی محکمہ دفاع نے اس حوالے سے مزید بتایا ہے کہ وہ زیرسمندر علاقے کا سروے کر رہی تھی اور یہ پرانا ماڈل تھا اور اس میں حساس معلومات یا خفیہ سونار اور ریڈار آلات موجود نہیں تھے۔
اس کے علاوہ یہ گزشتہ 10 روز سے بغیر بیس پر گئے مسلسل اپنے مشن پر تھی۔
یہ آبدوز بارودی سرنگوں کی تلاش، سمندری تہہ نقشے کی پہچان اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اینڈوریل کے ضائع ہونے کی ڈائیو ایل ڈی نے بھی اپنے ایک تصدیق کی ، تاہم کہا کہ یہ ایک ایسا خودکار نظام ہے جسے خطرناک ماحول میں استعمال کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کے ضائع ہونے کا امکان پہلے سے مد نظر رکھا جاتا ہے۔
کمپنی کے مطابق ڈائیو ایل ڈی دس دن تک بیس واپس آئے بغیر کام کر سکتا ہے اور تقریباً چھ ہزار میٹر ( 19,700 فٹ) گہرائی تک جا سکتا ہے۔
امریکی فوج سمندری نگرانی، انٹیلی جنس اور دشمن کے بحری جہازوں و آبدوزوں کی نگرانی کے لیے بغیر پائلٹ بحری سسٹم میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
تاکہ کم لاگت میں یہ کام کیے جا سکیں اور اہلکاروں کو خطرے سے بچایا جا سکے۔ ڈائیو ایل ڈی کی ایک یونٹ کی قیمت تقریباً 25 لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے۔