حوثیوں کے سعودی عرب پر حملہ میں 73 افراد زخمی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
11:45, 08/09/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 15:07, 08/09/2026, منگل
ویب ڈیسک

AFP
حوثیوں کا سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملہ۔ فائل فوٹویمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے منگل کو سعودی عرب کی آئل تنصیبات اور شہروں پر حملے کیے جس میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے ایران جنگ کے وسیع تر علاقائی جنگ میں پھیلنے کے خطرات کو ایک بار پھر بڑھا دی ہے۔
انگلینڈ کی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایران میں 6 ماہ سے جاری جنگ میں وقفے وقفے سے کشیدگی دیکھنے میں آ ئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو تہران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے حملے کیے تھے۔ اس کے علاوہ ان کا مقصد ایران کی ہمسایہ ممالک پر حملے کی روکنے اور خطے میں پراکسیز کی حمایت ختم کرنا تھا۔
حوثیوں کا یہ حملہ ایران کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ خلیج میں توانائی کے انفراسٹرکچر بشمول امریکہ کی تیل و گیس کی مفادات خطرے میں ہیں۔
یہ بیان خلیج میں گزشتہ ہفتے جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں آیا تھا۔ان حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
سعودی وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ کچھ توانائی کی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی اور متعدد افراد زخمی ہوئے جب کہ ہنگامی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
سعودی قیادت کے اتحاد کے ترجمان کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوب میں 4 شہروں کو نشانہ بنایا جس میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔
سعودی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ ’اتحاد اس دہشتگرد فوج کو روکنے کے لیے تمام ضروری آپریشنل اقدامات کرے گا اور اس کے جارحانہ رویے کا سختی سے مقابلہ کرے گا۔‘
یمن کے سب سے زیادہ آبادی والے اور زیادہ تر شمالی حصوں پر قابض حوثی گروپ نے جولائی میں ریاض کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد سے سعودی عرب حملے کر رہا ہے، ان حملوں میں بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بحیرہ احمر میں شپنگ میں رکاوٹ نے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں شپنگ محدود کر رکھی ہے جس کی وجہ سے اس ہفتے بھی تجارتی جہازوں کی آمد و رفت سست ریکارڈ کی گئی۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اتوار کو سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ایران خلیج میں جلد ایک نیا ‘ممنوعہ زون’ اور آبنائے ہرمز کے لیے نیا شپنگ کوریڈور کا اعلان کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ زون وہاں سے شروع ہوگا جہاں امریکہ کی ناکہ بندی شروع ہوتی ہے اور خلیج کے مختلف حصوں تک پھیلا ہوگا ۔ محسن رضائی نے مزید کہا کہ اس علاقے میں داخل ہونے والے کسی بھی جہاز کو ایرانی پابندیوں کی فہرست میں ڈال دیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ’ جب ہم ایران کے خلاف جنگ جیت جائیں گے تو تیل کی قیمتیں تیزی سے گریں گی۔‘
’ تیل کی قیمتیں تین ڈالر فی گیلن، اور بالآخر دو ڈالر فی گیلن سے بھی کم ہوجائے گی۔ یہ سب بہت جلد ہوگا، اور ایران کے پاس کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے۔ کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں بنا سکے گا۔‘
واضح رہے کہ جنگ سے پہلے دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ اس آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا، جس کی وجہ سے ایران کے لیے خلیجی پڑوسیوں کے تیل اور گیس برآمد کرنے والے ٹینکروں کو دھمکی دینا ممکن ہو گیا تھا۔