آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی میں حصہ لینے کے سنگین نتائج ہوں گے: ایران کی جنوبی کوریا کو وارننگ

12:30, 07/09/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 14:45, 07/09/2026, پیر
ویب ڈیسک
آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی میں حصہ لینے کے سنگین نتائج ہوں گے: ایران کی جنوبی کوریا کو وارننگ
US Navy
فائل فوٹو

ایران نے پیر کو جنوبی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ ’اگر وہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ہونے والی کسی فوج کارروائی میں حصہ لے گا تو اس اقدام کےسنگین تنائج ہوں گے۔‘

اس سے قبل رپورٹس سامنے آنا شروع ہوئیں تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ جنوبی کوریا ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائیوں میں حصہ لے سکتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ 'ایران اور جنوبی کوریا کے دو طرفہ تعلقات 64 برسوں پر محیط ہیں اور باہمی احترام پر مبنی ہیں'۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ' ایران جنوبی کوریا سے اپنے دوستانہ تعلقات کوبہت اہمیت دیتا ہے۔'

لیکن اسماعیل بقائی نے خبردار کیا کہ ’اس وقت جب ایرانی عوام امریکی جارحیت کے خلاف دفاع کر رہے ہیں اور خواتین و بچوں پر امریکی جنگی جرائم کا جواب دے رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی ملک کی فوجی موجودگی کو حملہ آوروں کے ساتھ براہ راست تعاون سمجھا جائے گا۔‘

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ’ کسی بھی خودمختار اور ذمہ دار ملک کو امریکی دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے جھک کر عظیم ایرانی قوم کے خلاف جارحیت اور ہولناک جرائم کی کارروائیوں میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔

جنوبی کوریا کا موقف

دوسری جانب جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’سیول مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام اور آبنائے ہرمز سے تمام ممالک کے جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے بین الاقوامی برادری سے قریبی رابطے میں ہے۔‘

جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی کوریا نے ایران کے ساتھ سفارتی راستے کھلے رکھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیول پر آبنائے ہرمز کی حفاظت میں فوجی تعاون بڑھانے کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

ایک صدارتی عہدیدار نے جمعے کو کہا کہ ’جنوبی کوریا نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن اس معاملے پر غور کیا جارہاہے۔‘

جنوبی کوریا کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ ‘اپنے ملک کے دفاع اور تیاری پر کوئی سمجھوتا کیے بغیر جنوبی کوریا آبنائے ہرمز میں تجارتی آمد و رفت بحال کرنے میں بین الاقوامی کوشش میں حصہ لے سکتا ہے۔‘

جنوبی کوریا کے مقامی نشریاتی ادارے ایس بی ایس نے اس سے قبل اطلاع دی تھی کہ سیول (پی۔8) سمندر میں گشت کرنے والا طیارہ، ایک دھماکہ خیز آرڈیننس ڈسپوزل ٹیم اور لاجسٹک سپورٹ جہاز پر مشتمل ممکنہ تعیناتی پر غورکر رہا ہے۔

جبکہ کسی بھی تعیناتی کے لیے جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کونسل کے فیصلے، کابینہ کی منظوری اور قومی اسمبلی کی منظوری درکار ہوگی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق جنوبی کوریا اور امریکہ کے درمیان معاہدہ ہے اور اس وقت قریب 39 ہزار امریکی فوجی جنوبی کوریا میں ہیں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل کا راستہ ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث اس اہم سمندری گزرگاہ کی سیکیورٹی بین الاقوامی تشویش کا موضوع بنی ہوئی ہے۔


پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026