فن لینڈ: سوشل میڈیاکے ذریعے 361 بچوں کے جنسی استحصال کے الزام میں مقدمے کی سماعت
23:05, 07/09/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 11:11, 08/09/2026, منگل
ویب ڈیسک

Reuters
فائل فوٹوفن لینڈ میں ایک ایسے شخص کے مقدمے کی سماعت جا رہی ہے جس پر سنیپ چیٹ سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے 361 بچوں کے جنسی استحصال کا الزام ہے۔
یہ مقدمہ ملک کے بچوں کے جنسی استحصال کے سب سے بڑے مقدمات میں سے ایک ہے۔
فن لینڈ کی نیشنل پراسیکیوشن اتھارٹی کے مطابق ملزم کو 2019 اور 2022 کے درمیان 9 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کے خلاف مبینہ جرائم کے سلسلے میں متعدد الزامات کا سامنا تھا۔
مقدمے کی سماعت کا آغاز گزشتہ روز پیر کو ضلعی عدالت میں ہوا ہے۔
فن لینڈ کے سرکاری نشریاتی ادارے 'وائے ایل ای' نے رپورٹ کیا کہ مبینہ متاثرین پورے فن لینڈ سے تعلق رکھنے والے لڑکے ہیں۔
مقدمے کی تفتیش
مقدمے کی تفتيش کا آغاز اس وقت ہوا جب پولیس نے 2022 میں ایک اور مجرمانہ مقدمے کے سلسلے میں تلاشی کے دوران ملزم کے موبائل فون سے ہزاروں نامعلوم بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز برآمد کیں۔
پولیس کے مطابق کہ مبینہ طور پر ملزم نے سنیپ چیٹ کے ذریعے بچوں سے رابطہ کیا اور ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنی نازیبا تصاویر یا ویڈیوز بھیجیں اور جنسی حرکات کریں۔
پراسیکیوٹر کے مطابق اسے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور بچوں کو جنسی انداز میں پیش کرنے سمیت کئی الزامات کا سامنا ہے۔
پولیس تفتیش کے دوران ملزم نے بعض الزامات کا اعتراف کر لیا تھا۔
دسمبر 2025 میں فن لینڈ پولیس نے 27 سالہ ملزم کے خلاف 364 مشتبہ جنسی جرائم کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔ لیکن بعد میں ان میں سے تین مقدمات میں الزامات کی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد عدالت کے سامنے 361 الزامات باقی رہ گئے ہیں۔
اس کیس کی وسعت کا اندازہ عدالت کے شیڈول سے ہوتا ہے، جس میں عدالت نے کارروائی کے لیے تقریباً 45 سماعت کے دن مختص کیے گئے ہیں۔
عدالت کا کہنا ہے کہ کارروائی 'کم از کم رواں سال کے آخر تک' جاری رہے گی۔
یہ مقدمہ آن لائن جنسی استحصال کے بڑھتے ہوئے رجحان اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے خطرات کو واضح کرتا ہے۔خاص طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بچوں کو نشانہ بنانا تفتیشی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔