اسرائیل کو ایسے ہتھیاروں کی فراہمی بند کی جائے جس سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو: یو این
16:30, 07/09/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 10:16, 08/09/2026, منگل
ویب ڈیسک

AA
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ فالکر ترک نے جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں انسانی حقوق کونسل کے 63 ویں اجلاس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کیا۔اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے پیر کو ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ایسے ہتھیاروں کی منتقلی فوری طور پر روکیں جن کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں میں استعمال ہونے کا خدشہ ہو۔
اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وولکر ترک نے کہا کہ ’ واضع بین الاقوامی قوانین کے باوجود اسرائیل ویسٹ بینک کے علاقوں کو اپنی سرحد میں لے رہا ہے اور یہ صاف نظر آرہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کمپنیوں کو بھی غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں کی حمایت کرنے والے کاروباری طریقوں کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے۔‘
وولکر ترک نے غزہ کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’جنگ بندی کے اعلان کے باجود اسرائیلی حملوں میں روزانہ ایک ہزار 300 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ انسانی امداد کی فراہمی پر بھی پابندیاں برقرار ہیں۔
انہوں نے غزہ سے تمام فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی اسرائیلی تجاویز پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ حماس سے تعلق رکھنے والے مسلح گروپوں کی جانب سے تعاون کے شبے میں فلسطینیوں کی مبینہ پھانسیوں اور تشدد کی بھی مذمت کی۔
مصنوعی ذہانت پر’ سرخ لکیروں‘ کا مطالبہ:
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے محفوظ استعمال کے لیے عالمی سطح پر واضح ’ریڈ لائنز‘ مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’جدید اے آئی مستقبل میں انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ کم از کم ان ممالک کو جہاں اے آئی ٹیکنالوجی تیار کی جا رہی ہے یا اس کی سپلائی چین موجود ہے انہیں مشترکہ طور پر ایسے اصول طے کرنے چاہییں جن سے اس ٹیکنالوجی کے خطرات کو روکا جا سکے۔
وولکر ترک نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ چند روز میں اے آئی کمپنیوں کو خط لکھیں گے، جس میں ان پر زور دیا جائے گا کہ وہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ’چند افراد کے ہاتھوں میں اے آئی کا لامحدود اختیار آ چکا ہے، جبکہ مؤثر قانون سازی میں تاخیر کا فائدہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ان کے مالکان کو پہنچ رہا ہے۔‘
امریکا، ایران اور یوکرین کی صورتحال پر بھی تشویش:
وولکر ترک نے امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والے حملوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے فوری طور پر مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔ انہوں نے شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی اطلاعات کا حوالہ بھی دیا۔
یوکرین کے حوالے سے انہوں نے روس کی جنگ کو خطرناک سمت میں بڑھتا ہوا قرار دیا اور توانائی کے انفراسٹکچر پر بڑھتے حملوں اور شہری ہلاکتوں پر تشوش ظاہر کی۔
انہوں نے جنوبی سوڈان اور یمن میں بڑھتی کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور حوثیوں سے اقوامِ متحدہ اور غیر سرکاری تنظیموں کے 73 زیرِ حراست اہلکاروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ وولکر ترک نے چین کے سنکیانگ خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مبینہ تشدد سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات پر زور دیا۔