سعودی عرب اور حوثیوں کی جھڑپیں، ’وقت آنے پر پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت جواب دے گا‘
15:17, 10/09/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 15:36, 10/09/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

پاکستان دفتر خارجہ
’پاکستان کی جانب سے وقت آنے پر اس کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔‘ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے کے بعد سعودی عرب کی جانب سے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں پر 40 حملے کیے گئے۔ پاکستان نے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے کے حوالے سے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی جانب سے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے کے جواب میں کسی فوجی کارروائی کے ذریعے ردعمل پر بات نہیں ہوئی۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ ’پاکستان کی جانب سے وقت آنے پر اس کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔‘
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں صحافیوں کی جانب سے ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’ایسی کسی چیز پر ابھی کوئی بات نہیں ہو رہی جب وقت آئے گا تو پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت جواب دے گا۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر سوال اس وقت کھڑا ہوا جب ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب کے شہروں اور انرجی انفراسٹکچر پر حملے کیے۔ رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے مڈل ایسٹ میں ایک بار پھر جنگ شروع ہونے کا عندیہ ہیں۔
انگلینڈ کے خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان نے ایران کو حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے کے بعد انہیں روکنے کی وارننگ دی ہے۔
پاکستان نے حوثیوں کے سعودی شہروں پر حملے کی مذمت کی ہے لیکن پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ان حملوں کا ردعمل کیسے دے گا اس حوالے سے وضاحت نہیں دی گئی۔
پاکستان کی وزارت کارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ’مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک کو شامل کرنے کا کوئی ادارہ نہیں ہے۔‘

دنیا
حوثیوں کے سعودی عرب پر حملہ میں 73 افراد زخمی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

دنیا
امریکی جہازوں پر حملے کے بعد پانچ ایرانی جہازوں کو تباہ کیا: امریکی سینٹرل کمانڈ