اسرائیل کی جیلوں میں 37 فلسطینی صحافی قید جبکہ 19 بغیر مقدمے کے حراست میں: فلسطینی ادارہ

14:22, 14/09/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 16:07, 14/09/2026, پیر
ویب ڈیسک
اسرائیل کی جیلوں میں 37 فلسطینی صحافی قید جبکہ 19 بغیر مقدمے کے حراست میں: فلسطینی ادارہ
AA
فائل فوٹو

فلسطینی قیدیوں کی تنظیم نے اتوار کو بتایا کہ اسرائیل اپنی جیلوں میں 37 فلسطینی صحافیوں کو قید رکھے ہوئے ہے، جن میں سے 19 کو بغیر کسی الزام یا مقدمے کے حراست کے تحت رکھا گیا ہے۔

غیر سرکاری تنظیم نے کہا ہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ میں نسل کشی کے آغاز کے بعد سے اب تک 37 صحافیوں اسرائیل کی حراست میں ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطینی صحافیوں کو ان کے کام اور اظہارِ رائے کی آزادی کی پاداش میں گرفتاریوں، قید کے دوران دی جانے والی سزاؤں، قید تنہائی کے ذریعے مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔

تنظیم نے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینی صحافیوں کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ ان کے خلاف گرفتاریوں، لمبی عرصے تک قید، تنہائی اور آزادی اظہار پر مقدمات کا سلسلہ جاری ہے۔

حالیہ گرفتاریاں جمعرات کو ہوئیں جب اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے کے شہر بیت اللحم میں چھاپے مار کر صحافیوں ’معاذ عمارنہ ‘ اور ’صبری جبرین‘ کو ان کے گھروں سے گرفتار کیا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے معاذ عمارنہ کو ان کی صحافتی سرگرمیوں کی وجہ سے تیسری بار گرفتار کیا گیا ہے۔

اس میں صحافی اور مصنف محمود فتافتہ کے مقدمے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جنہیں اسرائیل کی جانب سے’ اشتعال انگیزی’ قرار دیے جانے والے عمل پر 48 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

فلسطینی تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام صحافیوں کے خلاف ’اشتعال انگیزی‘ کے الزامات اور اس کے ساتھ ساتھ ان ’خفیہ فائلوں‘ کی بنیاد پر حراست میں لینے کے عمل کو تیز کر رہے ہیں۔

ادارے کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم سے تعلق رکھنے والے 19 صحافیوں اس وقت انتظامیہ کی حراست میں ہیں، جو کل قید صحافیوں کی تعداد کا 51 فیصد ہے۔

فلسطینی قیدیوں کی تنظیم نے 33 سالہ صحافی ’بشریٰ الطویل‘ کا کیس بھی اجاگر کیا، جنہیں شمالی اسرائیل کی دامون جیل سے منتقل کر کے وسطی اسرائیل کی رملہ جیل میں تنہائی کی قید میں رکھا گیا ہے۔

بیان میں اسرائیلی حکام پر الزام لگایا گیا ہے کہ ’وہ فلسطینی خواتین قیدیوں کے خلاف تنہائی اور دیگر پابندیاں سخت کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خوراک کی کمی، طبی علاج سے انکار اور ناقص صفائی کے حالات کا بھی سامنا ہے۔‘

فلسطینی قیدیوں کے تحفظ کی تنطیم نے کہا ہے کہ حراست میں لیے گئے صحافیوں کو دیگر فلسطینی قیدیوں جیسے ہی حالات کا سامنا ہے، جن میں بھوک، طبی لاپرواہی، تشدد، بدسلوکی اور بنیادی حقوق سے محرومی شامل ہیں۔

تنظیم کے مطابق اکتوبر 2023 سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی چھاپے اور آبادکاروں کے حملوں میں شدت آئی ہے۔ ان میں قتل، گھروں کی مسماری، مساجد اور گاڑیوں پر حملے، زرعی زمین کی تباہی اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع شامل ہیں۔

یاد رہے کہ فلسطینی قیدیوں کی تنظیم نے جمعرات کو بتایا تھا کہ ’گزشتہ ہفتے مغربی کنارے سے 100 سے زائد فلسطینی گرفتار کیے گئے ہیں۔

اکتوبر 2023 سے اب تک مغربی کنارے سے گرفتار فلسطینیوں کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اس کے علاوہ غزہ سے بھی ہزاروں افراد حراست میں لیے گئے ہیں۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026