امریکا سے مذاکرات کے لیے 60 دن کی ڈیڈ لائن اب غیر متعلقہ ہو چکی ہے: ایران
12:46, 17/08/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 15:02, 17/08/2026, پیر

AA
فائل فوٹوایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ 17 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد مذاکرات کے لیے مقرر کی جانے والی 60 روزہ مدت اب اپنی اہمیت کھو چکی ہے، کیونکہ امریکا نے معاہدے کی ’کھلی اور وسیع پیمانے پر خلاف ورزی‘ کی۔
ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت میں کہیں بھی 60 روزہ ڈیڈ لائن کا ذکر موجود نہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کبھی بھی دباؤ، دھمکی یا وقت کی پابندی کے تحت اپنی پالیسیاں نہیں بناتا۔
انہوں نے بتایا کہ مفاہمتی یادداشت میں دراصل دو اہم امور یعنی ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے 60 روزہ مدت کا پلان دیا گیا تھا، جسے ضرورت پڑنے پر مزید بڑھایا بھی جا سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’امریکا کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی کھلی اور وسیع خلاف ورزی کے باعث معاہدے پر دستخط کے چند ہی ہفتوں بعد مذاکرات کا عمل شروع نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں 60 روزہ مدت کی بحث مکمل طور پر غیر متعلقہ ہو گئی۔‘
ایرانی ترجمان نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز میں سمندری آمدورفت کے نظام سے متعلق عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے اقدامات سے پیدا ہونے والی سیکیورٹی پیچیدگیوں، متعدد فریقوں کی شمولیت اور تخریبی عناصر کی سرگرمیوں کے باعث عمان کے ساتھ بحری ٹریفک روٹ کا نقشہ تیار کرنے کے عمل میں وقت لگ رہا ہے۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔