وینزویلا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 1500 کے قریب پہنچ گئی، ہزاروں افراد اب بھی لاپتا

وینزویلا میں آنے والے شدید زلزلوں کے چار روز بعد بھی ہزاروں افراد لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جا رہا ہے جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 1500 کے قریب پہنچ گئی ہے۔
ملبے تلے دبے چند افراد کے زندہ ملنے کے بعد رضاکاروں اور امدادی اہلکاروں کو مزید لوگوں کے زندہ ہونے کی امید ہے۔ تاہم ہزاروں افراد لاپتا ہیں جن کے ملبے تلے دبے ہونے کا اندیشہ ہے کیوں کہ درجنوں عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں بدل چکی ہیں۔
حکام کے مطابق اتوار کو مزید 20 لاشیں نکالے جانے کے بعد ہلاکتیں 1450 تک پہنچ گئی ہیں جب کہ زخموں کی تعداد 3150 ہے۔ 774 عمارتیں منہدم ہوئی ہیں جب کہ 12 ہزار 721 افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

ریسکیو کے عمل میں حصہ لینے کے لیے بین الاقوامی امدادی ٹیمیں بھی وینزویلا پہنچ رہی ہیں۔ تقریباَ 2600 غیر ملکی امدادی اہلکار وینزویلا پہنچ چکے ہیں تاہم وہاں بھاری مشینری کی قلت ہے جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ ریسکیو آپریشنز جاری ہیں اور ہم مزید لوگوں کی زندگی کے بارے میں پرامید ہیں۔

وینزویلا میں جمعرات کو آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے زلزلوں کو 72 گھنٹے ہفتے کو ہی مکمل ہو چکے ہیں تاہم اتوار کو بھی بعض افراد کو زندہ نکالا گیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ لاطینی امریکی خطے کی تاریخ کا سب سے تباہ کن زلزلہ ہوگا۔
ملبے تلے پھنسے باپ بیٹے کو چار دن بعد بحفاظت نکال لیا گیا
ریسکیو اہلکاروں نے زلزلے کے چار دن بعد یعنی اتوار کو ایک عمارت کے ملبے تلے دبے باپ اور اس کے بیٹے کو زندہ ریسکیو کیا ہے۔ ان دونوں کو بچانے کے لیے امدادی ٹیموں نے مسلسل 12 گھنٹے کوششیں کیں۔
ریسکیو اہلکاروں نے خصوصی کیمروں کی مدد سے ملبے کی چھان بین کی اور ملبے میں پھنسے باپ بیٹے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
اس سے قبل ہفتے کو ایک ماں اور اس کے 9 ماہ کے بچے کو بھی ملبے سے بحفاظت زندہ نکالا تھا۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔