امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہو یا نہ ہو، 'اسرائیلی چھاؤنی' کو ختم کر دیا جائے گا۔ جو لوگ 'نئے جغرافیے' کو نہیں سمجھتے، وہ خودکشی کر رہے ہیں۔ عثمانیوں نے بازنطینی سلطنت کو شکست دے کر ایک دور بدل دیا تھا۔ اب ترکیہ 'دوسری بار' دور بدلے گا۔ کیسے؟

تحریر: ابراھیم کاراگل (کالم نگار)
اگر سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ اور ایران کسی حقیقی معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو خطے میں طاقت کا نقشہ کیسا ہوگا؟
کیا جنگ سے کمزور ہونے والا ایران، جس کی علاقائی طاقت بھی متاثر ہوئی ہے، دوبارہ مضبوط ہو کر ابھرے گا یا ایک کمزور ریاست کی صورت میں اپنی سرزمین تک محدود ہو جائے گا؟ یا پھر وہ خود کو ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کرے گا جس نے "امریکہ کے خلاف فتح حاصل کی؟"
وہ خلیجی ریاستیں جو ایرانی حملوں کا نشانہ بنی ہیں، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس سمت لے جائیں گی؟ کیا خلیجی عرب ممالک کو یہ ادراک ہوگا کہ امریکہ نہ تو ان کی حفاظت کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنے فوجی اڈوں کی۔ اور یہ کہ اسرائیل کے ساتھ امن صرف اسرائیل کی طاقت بڑھانے کے لیے بنایا گیا ہے؟ کیا وہ ایک نئی طاقت ور شراکت داری کو مکمل طور پر قبول کر لیں گے جس کے آثار ہم پہلے ہی دیکھ رہے ہیں؟
امریکہ اور یورپ کے لیے "اسرائیل کا بوجھ" اٹھانا "خودکشی" کے مترادف ہوگا۔
کیا اسرائیل کے اثر و رسوخ کا دائرہ سکڑ جائے گا یا فلسطین، لبنان اور شام پر اس کے حملے مزید شدت اختیار کریں گے؟ اور کیا امریکہ اور یورپ یہ سمجھ پائیں گے کہ اسرائیل کی حمایت کر کے وہ اپنے ہی اثر و رسوخ اور علاقوں سے محروم ہو جائیں گے جو ان کے لیے خودکشی کے مترادف ہوگا؟
کیا ترکیہ اور خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے اسرائیل کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات امریکہ اور یورپ کو کوئی پیغام دینے کے لیے کافی ہوں گے؟ یا وہ اسی اندھے پن میں گرفتار رہیں گے جو انہیں دنیا سے محروم کر دے گا اور وہ "اسرائیل کا بوجھ" اٹھاتے رہ جائیں گے؟
کیا امریکہ یہ محسوس کرنے کے بعد کہ اسرائیل کے ذریعے خطے کو تشکیل دینا اب ممکن نہیں رہا، ترکیہ کی قیادت میں بننے والے جغرافیائی نقشے کو اپنے مفادات کے لیے زیادہ موزوں سمجھے گا؟ کیا وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک "محدود علاقے میں قید ملک" کی شبیہ سے نکل سکے گا؟ کیا وہ نظریاتی انتہا پسندی سے آزاد ہو سکے گا؟
کیا نئی علاقائی شراکت داری امید کی کرن بن سکتی ہے؟
کیا ترکیہ، شام، عراق، سعودی عرب، مصر اور پاکستان جیسے ممالک کے درمیان سیکیورٹی شراکت داری خطے اور بیرونی مداخلت کرنے والوں کو ایک نئی حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور کر دے گی؟ چاہے وہ دل سے ایسا نہ بھی چاہتے ہوں، کیا وہ اسے نئی عالمی حقیقت کے طور پر قبول کریں گے اور اس سمت میں اقدامات لینا شروع کریں گے؟
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے نے خطے میں بالکل نئی حقیقتیں پیدا کر دی ہیں۔ تمام ممالک کے مؤقف ازسرِنو متعین ہو رہے ہیں۔ تمام ممالک کے امریکہ اور یورپ کے ساتھ تعلقات دوبارہ تشکیل پائیں گے۔ اسرائیل کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا تمام ممالک کی اولین ترجیح بن چکی ہے۔
وہ اسٹیٹس کو ختم ہو چکا ہے۔ اسرائیل کے ترجیحی علاقائی نقشہ سازی کے منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔
امریکہ اور یورپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا علاقائی اسٹیٹس کو ختم ہو چکا ہے۔ یورپ، امریکہ اور اسرائیل کی برتری پر مبنی جو طاقت کا نقشہ ترتیب دیا گیا تھا، وہ اب بکھر چکا ہے۔
مغرب کے مقابلے میں احساسِ کمتری اور کمتر ہونے کا احساس ختم ہو چکا ہے۔ خطہ اپنی پرانی طاقت دوبارہ حاصل کر رہا ہے اور ایک ایسی سرزمین میں تبدیل ہو رہا ہے جو باہر سے مسلط کی جانے والی ہر قسم کی صف بندی کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے۔
امریکہ اور یورپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ اسرائیل کو استعمال کرکے حکومتوں اور ممالک کو ڈرانے اور تابع رکھنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں "امریکہ اور یورپ کیا کہیں گے؟" کا خوف ختم ہو چکا ہے۔ امریکی اور یورپی ہتھیاروں کے ذریعے ممالک پر حملہ کرنے، انہیں تقسیم کرنے اور دہشت گرد تنظیموں کو ان کی تادیب کے لیے استعمال کرنے کی تاریخ ختم ہو چکی ہے۔
وہ دور بھی ختم ہو چکا ہے جس میں امریکہ اور یورپ، ترکہ اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات اسرائیل کے ذریعے قائم کرتے تھے اور اسرائیل کو ترجیح دینے والا علاقائی ڈیزائن تشکیل دیتے تھے۔ اب اس حوالے سے کوئی قوت باقی نہیں رہی۔ اب سے جب تک اسرائیل موجود رہے گا، امریکہ اور یورپ اس کی قیمت چکائیں گے اور وہ قیمت بہت بھاری ہوگی۔
اسرائیل کو ترکیہ کے ساتھ میز پر بیٹھنا ہوگا! وہ تمام میزیں جہاں اسرائیل موجود تھا، اب منہدم ہو چکی ہیں۔
اگر وہ اب بھی خطے میں اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ترکیہ، عرب ممالک اور ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔ اگر وہ انہیں نظر انداز کرکے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات جاری رکھتے ہیں تو وہ ہمیشہ کے لیے ہار جائیں گے۔ ایک ایسے دور میں جب صرف خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا "اسرائیلی اضافے" کا بوجھ اٹھا رہی ہے، اس "چھاؤنی" کو بند کرنا سب کا مشترکہ مفاد بن چکا ہے۔
وہ جو بھی طریقہ اختیار کریں، جب تک اسرائیل کے ساتھ اسی راستے پر چلتے رہیں گے، وہ ہارتے رہیں گے۔ یہ ناگزیر ہے۔ جب ترکیہ کی بیداری اور اس جغرافیے کی بیداری زمین کے محور پر ایک عظیم طوفان میں تبدیل ہو رہی ہے جو بحرِ اوقیانوس کے ساحلوں سے لے کر بحرالکاہل کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی ہے، تو ان کا "پرانی کہانیوں" پر اصرار شاید مغربی عالمی غلبے کے لیے سب سے بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔
زوال، سرپرستی اور تباہی کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب وہ نقشے نہیں بنا سکیں گے…
ہمارے خطے کے لیے تباہی، زوال اور سرپرستی کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ممالک کو ان کے رہنماؤں اور حکومتوں کو خرید کر تابع بنانے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ تشدد کی دھمکیوں اور اسرائیل کے خوف کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔
کسی خطے کے وسائل، دولت، حکومتوں اور سرزمین کا استحصال کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ مغربی تہذیب کی دو سو سالہ بالادستی کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ہم ایک ایسے تاریخی دور کے اختتام پر پہنچ چکے ہیں جس میں طاقت، دفاع، آزادی، خودمختاری اور قومی سرحدوں کا تعین مغرب کرتا تھا۔
"نئی چیزیں" ہمارے ملک میں پھل پھول رہی ہیں۔ وہ "پرانی دنیا" کے نمائندے ہیں۔
ہم ایک نئی دنیا میں بیدار ہو چکے ہیں، لیکن وہ نہیں ہوئے۔ ہم نے خود کو ایک نئی طاقت کے لیے وقف کر دیا ہے جب کہ وہ اپنی طاقت کھونا شروع ہو چکے ہیں۔ ہم ایک وسیع تر جغرافیائی نقشے پر غور کر رہے ہیں جب کہ وہ اب بھی پرانے نقشوں کو روند رہے ہیں۔
پانچ سو سال بعد ہم دنیا کے نئے طاقت کے نقشے کے مرکز میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ وہ صرف اپنی موجودہ حیثیت بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں نئی چیزیں جنم لے رہی ہیں جب کہ وہ ایک فرسودہ دنیا کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انسانیت نے بحرِ اوقیانوس کی صدیوں پر محیط بالادستی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر دیا ہے جب کہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے اندر مزید سمٹتے جا رہے ہیں۔
اگر وہ صرف ترکیہ کو سمجھ سکتےتو یہ بھی کافی ہوتا۔ لیکن اس کے بجائے وہ اپنے غرور، ہتھیاروں، دولت اور ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرتے ہوئے طاقت کے نشے میں مبتلا ہو گئے۔
انہوں نے ترکیہ کو نظر انداز کیا۔ حالاں کہ ترکیہ ایک ایسی سیاسی جینیاتی ساخت رکھتا تھا جو جغرافیہ کو تشکیل دیتی ہے۔ ایک سو سال تک وہ ترکیہ کو اپنی گرفت میں رکھنے کے عادی رہے۔ حالانکہ ترکیہ ایک ایسے طاقتور نقشے کا وارث تھا جو دیوارِ چین سے لے کر ویانا تک پھیلا ہوا تھا۔
وہ ترکیہ کو روک نہ سکے مگر اب جلد ہی اسے روکنے کی کوشش کریں گے
اور اب ایک صدی بعد، ترکیہ اپنے نقشے، اپنی تاریخ اور اپنے سیاسی ڈی این اے کی طرف واپس آ چکا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری واپسی صدیوں کا رخ بدل دیتی ہے۔ جو لوگ اسے محض بیان بازی سمجھتے ہیں، وہ سلطنتوں کی تاریخ کو یاد نہیں رکھتے۔
ہم اس وقت تاریخ کے اسی موڑ کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ صرف ہم ہی نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ بھی اسے دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ بیس سال ترکیہ کو "روکنے" کے لیے اندرونی اور بیرونی حملے ہوتے رہے لیکن وہ سب ناکام ہوئے۔
وہ نہ صرف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے بلکہ ترکیہ کی رفتار بھی کم نہ کر سکے۔ اس لیے اب صرف ایک راستہ بچا ہے: ترکیہ کے قریب رہنا۔ میرا ماننا ہے کہ اب امریکہ اور یورپ اپنی کلیدی پالیسیوں میں ترکیہ کے قریب رہنے کو ترجیح دیں گے۔
اور اس جغرافیے میں ترکیہ کی ترجیحات، جغرافیہ اور تاریخ کے بارے میں اس کا نقطۂ نظر، اور شراکت داری کا وہ نقشہ جسے وہ قائم کرنا چاہتا ہے، سب سے اہم ہوں گے۔ کوئی بھی اسے روک نہیں سکے گا۔ جو اسے روکنے کی کوشش کریں گے وہ نقصان اٹھائیں گے اور جو ترکیہ کے ساتھ چلیں گے وہ طاقت حاصل کریں گے۔
"اسرائیلی چھاؤنی ختم کی جائے گی اور جنگوں کو جغرافیے سے باہر دھکیل دیا جائے گا"
ہمارے نئے جغرافیائی خطے میں "اسرائیلی چھاؤنی" ایک خطرہ ہے اور اسے ختم ہونا چاہیے۔ تمام دہشت گرد تنظیمیں اسرائیل اور مغرب سے جنم لیتی ہیں اور ان سب کو ختم کیا جانا چاہیے۔
ملکوں پر حملہ کرنے اور علاقوں پر قبضہ کرنے کا دور ختم کر دیا جائے گا۔ جنگوں اور تنازعات کو یقینی طور پر جغرافیائی حدود سے باہر دھکیل دیا جائے گا۔ فرقہ وارانہ اور نسلی اختلافات کو جنگوں میں تبدیل کرنے والے تمام راستے بند کر دیے جائیں گے۔
ہمارے جغرافیائی ڈیزائن میں آبنائے ملاکا سے نہر سویز تک، خلیج فارس سے بحیرہ احمر تک، آبنائے داردانیلز اور باسفورس سے مشرقی بحیرہ روم اور بحیرہ اسود تک، اور زمینی تجارتی راہداریوں سے سمندری گزرگاہوں تک، تمام علاقوں کو بیرونی مداخلت اور کنٹرول سے محفوظ رکھا جائے گا۔ یہ تمام خطے علاقائی ممالک کے مکمل کنٹرول اور خودمختاری کے تحت ہوں گے۔
"نئے جغرافیے" کو ایک سپر نسل درکار ہے
نئے جغرافیائی ڈیزائن میں وسطی ایشیا سے مشرقی افریقہ تک اور جنوبی ایشیا سے پورے مغربی ایشیا تک پھیلا ہوا ایک سپر بیلٹ اور مڈل بیلٹ معاشی خطہ قائم کیا جائے گا۔ اس خطے کو مغربی مداخلت اور قبضے کے نقشوں سے نکال دیا جائے گا۔
دانش مند شہروں کے تجربے اور تاریخ کو، جو بعض اوقات ریاستوں سے بھی بڑھ کر رہے ہیں، آج کے دور تک منتقل کیا جائے گا۔ اس وسیع علاقے میں مشترکہ دفاعی وسائل تشکیل دیے جائیں گے اور اس جغرافیے کی دولت خود اسی جغرافیے کے لوگوں کی ہوگی۔
ترکیہ، پاکستان، مصر اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کا ایک نیا جال جو دیگر ممالک کی بھی گہری توجہ حاصل کر رہا ہے، اس نئے عالمی نظام کا بنیادی مرکز بن سکتا ہے۔ اگر سیاسی ارادہ اس ہدف کو حاصل نہ کر سکا تو خطرات اور دنیا کے نئے طاقت کے توازن اسے مجبور کر سکتے ہیں۔ خطے کے طاقتور ممالک کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
ترکیہ کو اسرائیل کی سرحدوں پر اپنی موجودگی قائم کرنی چاہیے
اب انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اسرائیل جس کے پاس اپنی کوئی حقیقی طاقت نہیں، ترکیہ اور مصر دونوں کے لیے خطرہ ہے اور اسی طرح سعودی عرب کے لیے بھی خطرہ بنے گا۔ پورے اس وسیع خطے کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ اسرائیل کو نقشے سے ہٹا دیا جائے، کیونکہ مستقبل کا کوئی اور منظرنامہ ان ممالک کو سلامتی فراہم نہیں کرے گا۔
ترکیہ، شام، عراق اور لبنان کے درمیان فوری طور پر ایک مشترکہ دفاعی ڈھال قائم کی جانی چاہیے۔ مثال کے طور پر شام اور لبنان کے درمیان قربت، بلکہ شراکت داری فوری طور پر قائم کی جانی چاہیے۔
ترکیہ کو شام اور لبنان دونوں کے ذریعے اسرائیل کی سرحدوں پر اپنی موجودگی قائم کرنی چاہیے۔ اسرائیل کی بحیرہ روم کے علاوہ تمام زمینی سرحدوں کو محدود کرنے کے لیے ترکیہ کے پاس بڑے اقدامات اٹھانے کا وقت تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔
عثمانیوں نے بازنطینیوں کو شکست دے کر ایک دور بدل دیا۔ ترکیہ دوسری بار دور بدلتے ہوئے اسرائیل کو ختم کرے گا
چاہے امریکہ اور ایران سوئس مذاکرات میں کسی معاہدے تک پہنچیں یا نہ پہنچیں، خطے کے لیے تاریخ میں ایک نیا باب شروع ہو چکا ہے۔ آگے کا راستہ تبدیل نہیں ہوگا۔ خطے اور اس کی اقوام کی تقدیر متعین ہو چکی ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اس راستے پر چلیں جو ہمارے سامنے کھل چکا ہے، غیر یقینی صورت حال کے سامنے سرنگوں ہوئے بغیر۔ یہ تاریخ کا ایک نیا موڑ ہوگا۔
سلطنتِ عثمانیہ نے بازنطین کو شکست دے کر ایک دور کو بدل دیا تھا۔ اس نے کرسچین دنیا کی عظیم سلطنت کو تباہ کر دیا تھا جس سے یورپ اور عالمی تاریخ دونوں تبدیل ہو گئیں۔ ترکیہ بھی جغرافیہ کے نقشے سے اسرائیل کو ہٹا کر دوسری بار تاریخ اور دور کو بدل دے گا۔ اس بار یہودی نسل سے تعلق رکھنے والی وہ "چوکی" جو ہماری جغرافیائی سرزمین کے دل میں بنائی گئی اور جس نے خوفناک تباہیوں کو جنم دیا، ختم کر دی جائے گی۔
تاریخ کو کبھی کم مت سمجھو۔ اقوام کی سیاسی جینیات کو کبھی کم مت سمجھو۔ جغرافیے کی طاقت کو کبھی کم مت سمجھو۔ ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ جغرافیے کے اندرونی تنازعات کو جغرافیے سے باہر لے جائیں۔ باقی سب خود بخود ہو جائے گا۔
ہر کسی کے لیے اب "درست اندازے" لگانے کا وقت آ گیا ہے!
سوئٹزرلینڈ میں کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ واضح نہیں ہے۔ ایک معاہدہ ہو سکتا ہے، یا اسرائیل اسے سبوتاژ کر سکتا ہے۔ جو بھی ہو، امریکہ اور یورپ اب اسرائیل کی حمایت کا بوجھ برداشت نہیں کر سکیں گے، اور نہ ہی اس کے لیے خطے کے تمام ممالک کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہوں گے۔
نئے علاقائی طاقت کے نقشے کی شکل واضح ہو چکی ہے۔ یہ طوفان سینکڑوں سال تک جاری رہے گا۔ ہم یقیناً اپنے حساب کتاب کر رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے لیے بھی اب اپنے حساب کتاب کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو وہ اس دنیا کو مزید تیزی سے کھو دیں گے جو وہ پہلے ہی کھو رہے ہیں، اور اس خطے میں ان کی طاقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔