یورپی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں ہیٹ ویو کے دوران کم از کم 18 افراد ہلاک

فرانس میں جاری گرمی کی شدید لہر نے کم از کم 18 جانیں لے لی ہیں جن میں دو ایسے کمسن بچے بھی شامل ہیں جو کار میں موجود تھے اور شدید درجۂ حرارت کی وجہ سے جان سے گئے۔
فرانس ان یورپی ملکوں کا حصہ ہے جو ہیٹ ویو کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی یورپی شہروں میں گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔
موسم کی شدت کے پیش نظر فرانس میں اسکولوں میں یا تو اوقاتِ کار تبدیل کیے گئے ہیں یا پھر کئی اسکولوں کو بند کر دیا گیا ہے۔
پیر کو فرانسیسی شہر بورڈو میں درجۂ حرارت 41.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا جو اس علاقے میں گرمی کا نیا ریکارڈ تھا۔ ایک اور فرانسیسی شہر پواٹیے میں پارہ 41.2 ڈگری ریکارڈ کیا گیا جس نے 1947 کا ریکارڈ توڑا ہے۔
دو بچے ایک گاڑی میں ہلاک ہو گئے
فرانس میں ایک خاتون نے اپنے دو بچوں کو بے ہوشی کی حالت میں اپنی کار میں پایا۔ ان بچوں کی عمریں دو اور چار برس تھیں۔ گاڑی گھر کے باہر کھڑی تھی جس کی وجہ سے اس میں شدید گرمائش تھی اور بچے اس کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
اس کے علاوہ تین معمر افراد بورڈو کے علاقے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق ان کی موت گرمی کی وجہ سے صحت کی پیچیدگیاں پیدا ہونے سے ہوئی۔

دوسری جانب اسپین کا علاقہ سین سیبیسٹین جو عموماً سرد رہتا ہے، یہاں بھی درجۂ حرارت 40 ڈگری تک پہنچ رہا ہے جب کہ برطانیہ کے ماہرینِ موسمیات بھی اس ماہ گرمی کے ریکارڈ ٹوٹنے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔
اٹلی نے پیر کو اپنے 12 شہروں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیے ہیں جو ہیٹ ویو سے متاثر ہیں۔
ایک عالمی موسمیاتی ادارے کی اپریل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ باقی دنیا سے دوگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے۔
برطانیہ میں گرمی 1976 کا ریکارڈ توڑ سکتی ہے
برطانیہ کے محکمۂ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ چار روزہ جاری ہیٹ ویو کے دوران کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 39 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے جو 1976 میں جون کی گرمی کا ریکارڈ توڑ دے گا۔ برطانیہ میں 1957 اور 1976 میں جون کے مہینے میں 35.6 ڈگری تک گرمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔