امریکہ - ایران مذاکرات: سوئٹزرلینڈ میں میں کیا پیش رفت ہوئی اور اعلامیے میں کیا کہا گیا ہے؟

امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے پر پہنچنے کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات کا پہلا دور سوئٹزرلینڈ میں اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔
بات چیت کا عمل سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں واقع برگن اسٹاک ریزورٹ میں اتوار کو شروع ہوا تھا جو پیر کی صبح تک جاری رہا۔ پاکستان اور قطر کی جانب سے بطور ثالث ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں اب تک ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران نے حتمی معاہدے پر پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے جب کہ تیکنیکی مذاکرات برگن اسٹاک میں پورے ہفتے جاری رہیں گے۔

'مرکزی مذاکرات کار باقاعدگی سے اس اعلیٰ سطحی کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے اور جوہری امور، پابندیوں اور مفاہمتی یادداشت کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور تنازعات کے حل سے متعلق ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے اور دیگر امور پر بھی کام کریں گے۔'
اعلامیے کے مطابق ’اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے جو مزید تیکنیکی مذاکرات کے فوری آغاز کی بنیاد فراہم کرے گا۔'
اعلامیے کے مطابق دونوں فریقین نے لبنان میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک طریقہ کار پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کے محفوظ انخلا کو یقینی بنانے کے لیے فریقین کے درمیان ایک مواصلاتی رابطہ بھی قائم کیا گیا ہے۔

عباس عراقچی نے کیا کہا؟
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ 'پاکستان اور قطر کی ان تھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں لبنان جنگ کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔'
ایکس پر جاری اپنے بیان میں عراقچی کا کہنا تھا کہ 'اس پیش رفت کے تحت تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی دی گئی ہے، ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے، منجمد اثاثوں کا ایک حصہ جاری کر دیا گیا ہے جب کہ ایران کے لیے ایک بڑے تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبے کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔'
انہوں نے مزید کہا کہ 'اس عمل کا پہلا حقیقی امتحان لبنان میں قائم کیے جانے والے ’ڈی کنفلیکشن سیل‘ کی کارکردگی کا ہوگا۔'

مذاکرات سے پہلے کیا ہوا؟
اتوار کو باضابطہ مذاکرات شروع ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے امریکی ٹی وی 'فاکس نیوز' نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے ایرانی حکام سے کہا ہے کہ 'اگر تم نے دوبارہ آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو تمہارا ملک نہیں بچے گا۔' فاکس نیوز کے مطابق ٹرمپ نے اپنی دھمکی بھی دہرائی کہ امریکہ اس آبی گزرگاہ کا کنٹرول سنبھال لے گا اور ممکنہ طور پر وہاں سے گزرنے پر اپنا ٹول ٹیکس بھی عائد کرے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے مفاہمتی یادداشت پر اس لیے اتفاق کیا تاکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی بلند قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والے عالمی معاشی بحران کو روکا جا سکے۔

تسنیم نے ذریعے کے حوالے سے کہا کہ ایرانیوں نے واضح کیا کہ جوہری معاملات پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت کے دیگر حصوں پر عمل درآمد ضروری ہے جن میں منجمد اثاثوں کی رہائی اور ایرانی تیل کی برآمدات کی اجازت دینے کے لیے امریکی چھوٹ شامل ہے۔
جب کہ مذاکرات میں شامل ایک امریکی سفارت کار نے رائٹرز سے گفتگو میں اس واقعے کو بالکل مختلف انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ 'ایرانی کبھی نہیں گئے اور اب بھی یہاں موجود ہیں۔ رات گئے تک ملاقاتیں اور مذاکرات جاری رہے۔ ہم نے آبنائے ہرمز، لبنان، جوہری معاملات اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی تفصیلات سمیت دیگر موضوعات پر بات کی۔'
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے لبنان میں تشدد کے اثرات کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ وہاں دشمنی ختم کرنے کی جانب پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات ہمیشہ کچھ نہ کچھ پیچیدہ ہوتے ہیں۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔