برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کا مستعفی ہونے کا اعلان، لیبر پارٹی کی قیادت سے بھی دست بردار

برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے پیر کو اپنی ایک پریس کانفرنس میں وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا اور حکمران جماعت لیبر پارٹی کی قیادت بھی چھوڑ دی ہے۔
پیر کو 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سر کیئر اسٹامر نے کہا کہ ان کا ہر فیصلہ اپنے ملک کے لیے ہوتا ہے۔ اسٹارمر کا کہنا تھا کہ 'ان کی جماعت یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا اگلے عام انتخابات میں قیادت کے لیے وہ بہترین انتخاب ہیں یا نہیں اور میں نے اپنی پارٹی کا جواب سن لیا ہے جسے میں خوش دلی سے قبول کرتا ہوں۔'

انہوں نے مزید کہا 'اگر قیادت کے لیے مقابلہ ہوا تو اس سے یہ یقینی بنایا جا سکے گا کہ پارلیمنٹ کے ستمبر میں دوبارہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے نئی قیادت اپنی ذمے داریاں سنبھال لے۔ میں اس انتخابی عمل کے مکمل ہونے تک وزیرِ اعظم کے عہدے پر برقرار رہوں گا اور اقتدار کی منظم اور ہموار منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا۔'
سر اسٹامر کے مستعفی ہونے کا مطلب ہے کہ برطانیہ کو چار برس میں اب پانچواں نیا وزیرِاعظم ملے گا۔

ان نتائج نے برطانوی سیاست میں بھونچال کھڑا کر دیا تھا اور اس کے بعد سے کیئر اسٹارمر سے مستعفی ہونے کے مطالبات کیے جا رہے تھے۔
انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے باوجود کیئرا سٹامر نے اس وقت استعفی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ 'میں ملک کو افراتفری کی صورتِ حال میں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا اور اپنی پانچ سالہ مدت پوری کروں گا۔'
تاہم پیر کو انہوں نے بالآخر استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا اور ایک موقع پر فرط جذبات سے ان کی آنکھوں میں آنسو بھی آ گئے۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔