امریکہ کی ایران کے لیے پابندیوں میں نرمی، اگر معاہدے کی پاسداری نہ کی تو جو ضروری ہوا وہ کروں گا: ٹرمپ کی تنبیہ

10:47, 23/06/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 10:47, 23/06/2026, منگل
امریکہ کی ایران کے لیے پابندیوں میں نرمی، اگر معاہدے کی پاسداری نہ کی تو جو ضروری ہوا وہ کروں گا: ٹرمپ کی تنبیہ
AFP
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک سڑک پر ایرانی رہنماؤں کی تصاویر آویزاں ہیں۔

امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے تحت تہران پر عائد بعض پابندیاں 60 روز کے لیے اٹھا لی ہیں جب کہ ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنبیہ کی ہے کہ اگر ایران نے معاہدے کی کوئی خلاف ورزی کی تو 'جو ضروری ہوا، وہ کریں گے۔'

امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کو ایران کے لیے پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا جو 21 اگست تک جاری رہیں گی۔ اس استثنیٰ کے تحت تہران کو تیل اور اس سے متعلقہ مصنوعات فروخت کرنے اور ان کی ادائیگیاں وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی آمد و رفت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران ہتھیاروں کے معائنے کی اجازت دے گا تاکہ جوہری معاملات پر شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے یہ تنبیہ کی کہ 'اگر ایران اپنے معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا یا مناسب رویہ اختیار نہیں کرتا تو میں وہی کروں گا جو ضروری ہوگا۔'

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات کے لیے پابندیوں میں نرمی، بیرون ملک منجمد اثاثوں کے ایک حصے تک رسائی اور ایران کی تعمیر نو اور ترقی کے منصوبے کے آغاز کو یقینی بنایا ہے۔

ادھر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایک طریقہ کار کے تحت امریکہ اور قطر منجمد ایرانی فنڈز کے اجرا کے بعد ان پر نگرانی رکھیں گ، جب کہ یہ رقم امریکہ سے مکئی، سویا بین اور گندم کی خریداری پر خرچ کی جا سکے گی۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا جو رقم ہم جاری کریں گے، وہ ہمارے ہی کسانوں تک پہنچے گی۔

تاہم ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے کہا کہ ایسی کوئی شرط موجود نہیں اور منجمد فنڈز کے کم از کم ایک حصے کو دیگر غیر پابندی زدہ اشیا کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات نے حتمی امن معاہدے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ تاہم ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت شروع کر دی ہے۔

اگرچہ اسرائیل اس امن معاہدے کا فریق نہیں ہے لیکن اس نے جمعہ کے روز لبنان میں ایک نئی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کی رات سے لڑائی میں واضح کمی آئی ہے۔

تاہم اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنی سیکیورٹی زون برقرار رکھے گا اور اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو لاحق خطرات کو 'ختم' کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے تکنیکی سطح کے مذاکرات اب بھی سوئٹزرلینڈ میں جاری ہیں جو پورا ہفتہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

تبصرے
Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026