اشتہارات
ایچ ۱

امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہو یا نہ ہو، 'اسرائیلی چھاؤنی' کو ختم کر دیا جائے گا۔ جو لوگ 'نئے جغرافیے' کو نہیں سمجھتے، وہ خودکشی کر رہے ہیں۔ عثمانیوں نے بازنطینی سلطنت کو شکست دے کر ایک دور بدل دیا تھا۔ اب ترکیہ 'دوسری بار' دور بدلے گا۔ کیسے؟
اگر سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ اور ایران کسی حقیقی معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو خطے میں طاقت کا نقشہ کیسا ہوگا؟ کیا جنگ سے کمزور ہونے والا ایران، جس کی علاقائی طاقت بھی متاثر ہوئی ہے، دوبارہ مضبوط ہو کر ابھرے گا یا ایک کمزور ریاست کی صورت میں اپنی سرزمین تک محدود ہو جائے گا؟ یا پھر وہ خود کو ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کرے گا جس نے "امریکہ کے خلاف فتح حاصل کی؟" وہ خلیجی ریاستیں جو ایرانی حملوں کا نشانہ بنی ہیں، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس سمت لے جائیں گی؟ کیا خلیجی عرب ممالک
23 جون 2026

کیا ٹرمپ اسرائیل کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ کیا اسرائیل سے ہٹ کر بھی کوئی امریکی انٹیلی جنس موجود ہے؟ کیا امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں دوری آ سکتی ہے؟ خطے کے اصل طاقت ور عناصر متحرک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل ایک ایسی تفصیل بن گیا ہے جسے "کچل کر آگے بڑھ جانا" ہے۔ ہمارے منصوبے اس سے کہیں بڑے ہیں! کمزور ممالک کا اتحاد بھی محض ایک تفصیل ہے!
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ بظاہر اسرائیل کو شدید پریشانی میں مبتلا کر چکا ہے۔ اگر کوئی حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسرائیل کی بے چینی مزید بڑھ جائے گی اور ممکن ہے کہ یہ خوف میں تبدیل ہو جائے۔ اگر یہ سب کوئی ڈرامہ نہیں ہے، اگر اسرائیلی حلقوں کا ردِعمل مصنوعی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے یہ معاہدہ اسرائیل کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس سے دنیا بھر میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ شاید امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کسی قسم کی تبدیلی یا سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہم
18 جون 2026
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

’ہم سرپرائز وار کی تیاری کر رہے ہیں‘: اسرائیلی چیف آف اسٹاف کا یہ بیان کیا ترکیہ کی جانب اشارہ ہے؟
اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زمیر کہتے ہیں کہ ’ہم سرپرائز وار (جنگ) کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہمیں ہر محاذ پر چوکنا رہنا ہوگا۔‘ غزہ میں نسل کشی کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ اب کس قسم کی نئی جنونیت کی طرف جا سکتے ہیں۔ اگر اسرائیل کو ’ریاست‘ سمجھنے کے بجائے اسے ایک نسلی نظریاتی ’تنظیم‘ کے طور پر دیکھیں اور پھر اندازہ لگائیں کہ انسانیت دشمن، بگڑی ہوئی قیادت کے زیرِ انتظام ایسی حکومت کیا کرسکتی ہے اور یہ دنیا کو کس سمت دھکیل سکتی ہے۔ اچانک جنگ کس کے خلاف؟ تو پھر یہ ’اچانک جنگ‘ کس کے خلاف ہوگی؟ شام
09 دسمبر 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

جنگیں ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے ٹرمپ کیا وینزویلا پر حملہ کریں گے؟
حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کے لیے فوجی مداخلت کا اشارہ دے رہی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع یہ دلیل دے رہا ہے کہ منشیات کی سمگلنگ اور منشیات سے جڑی دہشت گردی امریکہ کے لیے فوری خطرہ ہیں اور وہ بین الاقوامی پانیوں میں ایسے جہازوں کے خلاف عدالتی کارروائی کے بغیر حملے کر رہا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ منشیات سمگل کر رہے ہیں۔ کیریبین میں بحری فوجی دستوں کی تعیناتی اور صدر ٹرمپ کا اعلان کہ انہوں نے سی آئی اے کو وینزویلا میں کارروائی کرنے کی اجازت دی ہے، ایسے اقدامات ہیں جو جنگ کے
20 نومبر 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

حکومت پر شاہی اثر و رسوخ اور عوام کا احتجاج: مراکش میں کیا ہورہا ہے؟
چند دن کے لیے سڑکوں پر احتجاج، کارکنان کے نعرے، صحت اور تعلیم میں اصلاحات کے مطالبات، کچھ شہروں میں سرکاری عمارتوں میں آگ اور گرفتاریاں۔۔۔۔ عالمی میڈیا جب مراکش پر رپورٹ کررہے تھے تو احتجاج پہلے ہی پولیس مداخلت کے ذریعے کم ہو چکا تھا۔ جو لوگ خطے پر گہری نظر رکھتے ہیں، انہوں نے پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا کہ ایسے مظاہرے مراکش جیسے ملک میں زیادہ بڑھنے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے۔ اٹلانٹک اور بحیرہ روم کے درمیان واقع اور افریقہ کے اندرونی علاقوں اور یورپ کے ساتھ مضبوط رابطے رکھنے والا مراکش اسلامی دنیا
16 اکتوبر 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

شرم الشیخ کے اجلاس میں 'نئے مشرقِ وسطیٰ کا جنم'
غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو ایک مستقل امن عمل میں تبدیل کرنے کے لیے علاقائی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'ایک نیا مشرقِ وسطیٰ جنم لے رہا ہے۔' اور وعدہ کیا کہ وہ اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ امن کے ارادے کا اعلامیہ، جس پر صدر اردوان نے بھی دستخط کیے، اس کا مقصد صرف غزہ کی جنگ ختم کرنا نہیں۔ بلکہ یہ فریقین کے درمیان خطے میں استحکام یقینی بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کے عزم کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ امن منصوبے کے نفاذ کے معاہدے سے علاقائی
15 اکتوبر 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

’جو سمجھتے ہیں کہ وہ ترکیہ پر حملہ کرسکتے ہیں، انہیں اندازہ نہیں کہ یہ حکمت عملی کتنی خطرناک ثابت ہوگی‘
وہ اس قدر نفرت کا نشانہ بن چکے ہیں کہ دنیا کے ہر کونے سے، تھائی لینڈ سے لے کر چلی تک، یورپی ممالک سے لے کر دور دراز مقامات تک، انہیں بے دخل کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیل کے حلیف ممالک میں بھی سڑکوں پر یہود مخالف مظاہرے کررہے ہیں۔ کوئی انہیں اپنے ملکوں، شہروں، سڑکوں، ہوٹلوں، ریستورانوں یا کیفے میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ ’مستقبل سوشل میڈیا گلیمر کی طرح نہیں ہوگا‘ چاہے وہ ٹک ٹاک ویڈیوز میں جتنا بھی ہنسیں، چاہے جتنا بھی ناچیں، وہ خود کو زمین پر سب سے زیادہ نفرت کیے جانے والی کمیونٹی بنانے میں کامیاب ہو
01 اکتوبر 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

’مغربی سیکیورٹی عرب ممالک کے لیے صرف دھوکہ ہے‘
اسرائیل کا قطر پر حملہ، جس میں امریکہ کی حمایت بھی شامل تھی، عرب دنیا کے لیے ایک صدمے کی طرح تھا۔ اگرچہ کچھ ممالک نے امریکی خوف کے باعث اپنا فضائی حدود اسرائیل کے لیے کھول دیا، یہ حملہ اس بات کا اعلان تھا کہ 21ویں صدی کے پہلے چار عشروں کے اختتام پر عرب دنیا خوفناک تنہائی کی طرف دھکیل دی جائے گی۔ اب جو صدمہ عرب دنیا محسوس کر رہی ہے، وہ عارضی یا لمحاتی نہیں ہے۔ کیونکہ اس حملے نے وہ سیکورٹی اصول بے معنی کر دیے جو عرب ریاستوں نے قائم کیے، جن پر وہ امید لگائے ہوئے تھے اور جن پر یقین کرتے تھے کہ وہ انہیں
16 ستمبر 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

افغانستان میں داخل ہونا آسان ہے مگر نکلنا مشکل، کیا طالبان پشتون قوم پرست ہیں؟ انہوں نے اتنا مشکل مسئلہ کیسے حل کر لیا؟
طالبان، جو آج افغانستان میں حکومت کر رہے ہیں، اپنے وطن کے دفاع کا 48 سالہ ایک طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ یہ تجربہ قربانیوں، شہادتوں، غازیوں، اسٹریٹجک اور جنگی حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ صبر اور استقامت سے حاصل ہوا ہے۔ ایسی کون سی سوچ، جذبہ یا ابن خلدون کے الفاظ میں ’عصبیہ‘ تھا، جس نے ان لوگوں کو اتنا پختہ کر دیا کہ انہوں نے پہلے روس اور پھر امریکہ کو افغانستان میں مداخلت پر پچھتانے پر مجبور کر دیا اور اور انہوں نے اپنی آزادی کے معاملے پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا؟ جب آپ انہیں قریب سے دیکھتے ہیں تو واضح ہو
19 اگست 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

ٹرمپ پوتن ملاقات: معاہدے، قیاس آرائیاں اور سیاسی اثرات
الاسکا سمٹ ختم ہو گیا۔ ایسے اجلاسوں میں عام طور پر جو کچھ کہا یا طے پایا جاتا ہے، وہ مکمل طور پر عوام تک نہیں پہنچتا۔ کئی گھنٹوں کی بات چیت کے بعد پوتن اور ٹرمپ نے انتہائی مختصر بیانات دیے۔ ایسی صورت میں جب میڈیا کے پاس مکمل معلومات نہیں ہوتیں، تو لوگ خود ہی باڈی لینگویج، رسمی انداز اور چند جھلکیوں کو دیکھ کر حد سے زیادہ مفہوم نکالنے لگتے ہیں۔ شفافیت کی کمی کی وجہ سے لوگ قیاس آرائی کرنے لگتے ہیں۔ میں نے اجلاس کی لائیو کوریج دیکھی۔ سب کچھ مضحکہ خیز لگ رہا تھا۔ کچھ صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ استقبالیہ
19 اگست 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

کیا فرانس اور برطانیہ فلسطین کو ریاست تسلیم کر لیں گے؟
فرانس اور برطانیہ نے حال ہی میں یکے بعد دیگرے یہ بیانات دیے کہ وہ فلسطین کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ مگر یہ اعلانات کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں اور بالخصوص ان ممالک کی ساکھ پر سوال اٹھتے ہیں۔ یہ شک و شبہ بالکل جائز ہے جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہی دونوں ملک ماضی میں مشہور سائکس-پیکو معاہدے کے فریق تھے۔ یہ وہ معاہدہ تھا جس نے موجودہ دور کے بہت سے تنازعات کی بنیاد رکھی۔ اس معاہدے کے تحت سلطنتِ عثمانیہ کے علاقوں کو سرحدوں میں تقسیم کیا گیا اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بانٹ دیا گیا۔ اور اسی تقسیم نے اسرائیل
11 اگست 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

’اسرائیل کی مسلسل حمایت امریکہ کے لیے اب سیاسی بوجھ‘
امریکہ میں اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت کے حوالے سے عوامی رائے میں ڈرامائی تبدیلی نے صیہونیوں اور ان کے امریکی اتحادیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ تمام ووٹر گروپس (جیسے نوجوان، بوڑھے، ریپبلکن، ڈیموکریٹس وغیرہ) میں اسرائیل کے لیے ہمدردی میں کمی آ رہی ہے۔ اسی دوران پہلے جس ’اسرائیل لابی‘ کو پسِ پردہ سمجھا جاتا تھا، وہ اب کھل کر وائٹ ہاؤس اور کانگریس پر اثرانداز ہوتی نظر آ رہی ہے اور یہ بات عوام میں تنازع اور سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ یہ تبدیلی ڈیموکریٹک پارٹی پر سب سے
29 جولائی 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

نیتن یاہو ہر معاملے میں ٹرمپ کے حامی، شام کے معاملے پر کیوں نہیں؟
بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سات ماہ کے دوران شام نے سیاسی استحکام کی طرف نمایاں پیش رفت کی ہے۔ تاہم السویدہ میں بدامنی کے حالیہ واقعات یہ یاد دلاتے ہیں کہ آگے کا سفر اب بھی طویل اور مشکل ہے۔ احمد الشراع کی قیادت میں شام کی نئی حکومت نے مختلف گروپس کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے اور بین الاقوامی سفارتی شناخت حاصل کرنے کے لیے قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں۔ بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی سے لے کر نسلی اور فرقہ وارانہ برادریوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے تک، شام میں کئی مثبت پیش رفتیں ہوئی ہیں۔تاہم
23 جولائی 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

بدلتے اتحاد، نیا عالمی منظرنامہ: کیا 2025 میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے؟
روس یوکرین جنگ کے بعد دنیا میں کشیدگی اور پولرائزیشن میں اضافہ ہوا ہے اور حالیہ دنوں میں یہ کھلے عام تصادم کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ پہلے انڈیا اور پاکستان کے درمیان اور پھر اسرائیل اور ایران کے درمیان۔اگرچہ فی الحال انڈیا-پاکستان اور اسرائیل-ایران کے درمیان لڑائی تھم چکی ہے، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ تنازعات مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی معاملے میں کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا جو مستقل امن کی ضمانت دے سکے۔ جہاں تک روس اور یوکرین کی جنگ کا تعلق ہے، تو اس پر عالمی توجہ
01 جولائی 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

ایران، اسرائیل اور ’ڈیپ اسٹیٹ‘ کے بیچ الجھا امریکہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں کیے گئے وعدے پورے نہ ہونے کا الزام ’ڈیپ اسٹیٹ‘ پر عائد کیا۔ یہ اصطلاح ایسے خفیہ بیوروکریٹس اور سیاسی اشرافیہ کے گروہ کے لیے استعمال ہوتی ہے جو اپنی مرضی سے پالیسیاں بناتے ہیں اور غیرمعمولی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے حامیوں کے مطابق ’ڈیپ اسٹیٹ‘ ہی وہ طاقت ہے جو امریکا کو مہنگی اور طویل جنگوں میں دھکیلتی رہی ہے، جن پر کھربوں ڈالر خرچ ہوئے اور ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔ یوں ان کے نزدیک امریکا کے تمام بڑے مسائل کی جڑ یہی ’ڈیپ اسٹیٹ‘ ہے۔ اپنی دوسری مدتِ
26 جون 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

کیا ٹرمپ جنگ روکنے کے لیے نئی جنگ چھیڑیں گے؟
اسرائیل ایران پر حملوں سے دنیا کو ایک بڑی جنگ، حتیٰ کہ عالمی جنگ کی طرف لے جارہا ہے۔ آپ کو یہ بات بظاہر مبالغہ آمیز یا ڈرامائی لگ سکتی ہے، لیکن بعض اوقات ہمارے اندر کے خدشات اور احساسات دراصل اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں جس کی طرف ہم آنکھیں بند کیے بڑھتے جا رہے ہیں۔ جیسے دو عالمی جنگوں میں ہوا، عالمی تباہی یا جنگ کوئی حادثاتی یا خاموش پیش رفت نہیں رہی، بلکہ سب کچھ کھلے عام، واضح انداز میں ہو رہا ہے، لیکن پھر بھی دنیا اسے روکنے میں ناکام ہے۔ امریکی مورخ باربرا ٹک مین نے اپنی مشہور کتاب ’The March
19 جون 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

کیا انڈیا پاکستان کشیدگی کے پیچھے اسرائیل اور امریکہ کی خفیہ منصوبہ بندی چھپی ہے؟
تصور کریں انڈیا پاکستان پر حملہ کرتا ہے۔ جواب میں پاکستان اور بنگلہ دیش، دونوں انڈیا پر حملہ کرلیتے ہیں۔ ان ملکوں کے درمیان پرانے حل نہ ہونے والے جھگڑے، جو 20ویں صدی سے چلے آ رہے تھے، ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ چائنہ بھی خاموش نہیں رہتا۔ وہ نارتھ سے انڈیا پر حملہ کرتا ہے، کیونکہ وہ انڈیا کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ چائنہ جانتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کئی سالوں سے انڈیا کی مدد کر رہے تھے تاکہ چائنہ کی طاقت کو روکا جا سکے۔ شاید کچھ بڑی طاقتیں پہلے سے اس موقع کی تلاش میں ہیں۔ ادھر افغانستان
01 مئی 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

’جب اسرائیل کو طاقت سے جواب دینے کا وقت آیا ہے، تو کیا ہم غزہ خالی کرا کے اسرائیل کو بچائیں؟ اور اسے ’ہجرت‘ کہیں؟ ایسی ہجرت حرام ہے!‘
غزہ ہمارے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا فلسطینی عوام کی عظیم جدوجہد صرف فلسطین تک محدود ہے؟ یا پھر غزہ میں ظلم اور نسل کشی کی صورتحال خطے کی طاقتور ریاستوں پر بھی کچھ ذمے داریاں عائد کرتی ہے؟ کیا غزہ کے عوام کو بچانے کا واحد حل یہی ہے کہ انہیں ان کے وطن سے نکال کر کہیں اور بسا دیا جائے؟ لیکن کیا یہ جلاوطنی نہیں؟ جبری ہجرت؟ نسلی کشی؟ اور یہ بیانیہ کون پھیلا رہا ہے؟ کون اس سوچ کو ہمارے دل و دماغ میں اتارنے کی کوشش کر رہا ہے؟ کیا غزہ صرف ایک زمین کا ٹکڑا ہے؟ نہیں! غزہ ایک سوچ ہے۔ یہ مزاحمت کی سب سے روشن
16 اپریل 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

ٹرمپ - پیوٹن گفتگو اور جیوپولیٹیکل شطرنج
جب روس نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ وہ یوکرین کے خلاف ایک ’آپریشن‘ شروع کرے گا، تو زیادہ تر لوگوں نے سوچا کہ یوکرین ایک آسان ہدف ہوگا اور یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی، شاید ایک ہفتے کے اندر۔ پھر روس نے کچھ عرصہ پہلے کریمیا پر بھی اسی طرح تیزی سے قبضہ کر لیا تھا۔ پیوٹن نے اس آپریشن کے مقاصد یوں بیان کیے: دونیتسک اور لوہانسک کے علاقوں کو آزاد کرانا، جہاں روسی اقلیت آباد ہے، یوکرین سے نیو نازی گروپس کا خاتمہ کرنا اور یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے سے روکنا شامل ہے۔ جنگ مختلف علاقوں میں ایک ساتھ شروع ہوئی،
25 مارچ 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

’نیتن یاہو ترکیہ سے خوفزدہ ہے‘
حالیہ دنوں کی سب سے اہم خبروں میں سے ایک یہ ہے: ’اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اپنے ملٹری سیکریٹری آر گوفمین کو ماسکو بھیج دیا۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ روس شام میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے۔‘ اس خبر کا ایک دلچسپ پس منظر ہے، جو اسرائیلی میڈیا میں شائع ہوئی۔ اسرائیل، ترکیہ کے بارے میں دن بہ دن زیادہ فکر مند ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کو ترکیہ سے شام کے بارے میں وہ جواب نہیں ملا جو وہ چاہتا تھا۔ موجودہ صورتحال کیا ہے؟ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں۔ اسرائیل کی بنیادی حکمت عملی ہمیشہ
21 مارچ 2025
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔



















ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔