ایچ ۱

امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہو یا نہ ہو، 'اسرائیلی چھاؤنی' کو ختم کر دیا جائے گا۔ جو لوگ 'نئے جغرافیے' کو نہیں سمجھتے، وہ خودکشی کر رہے ہیں۔ عثمانیوں نے بازنطینی سلطنت کو شکست دے کر ایک دور بدل دیا تھا۔ اب ترکیہ 'دوسری بار' دور بدلے گا۔ کیسے؟
ابراہیم کاراگُل
ابراہیم کاراگُلینی شفق اخبار کے کالم نگار

امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہو یا نہ ہو، 'اسرائیلی چھاؤنی' کو ختم کر دیا جائے گا۔ جو لوگ 'نئے جغرافیے' کو نہیں سمجھتے، وہ خودکشی کر رہے ہیں۔ عثمانیوں نے بازنطینی سلطنت کو شکست دے کر ایک دور بدل دیا تھا۔ اب ترکیہ 'دوسری بار' دور بدلے گا۔ کیسے؟

اگر سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ اور ایران کسی حقیقی معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو خطے میں طاقت کا نقشہ کیسا ہوگا؟ کیا جنگ سے کمزور ہونے والا ایران، جس کی علاقائی طاقت بھی متاثر ہوئی ہے، دوبارہ مضبوط ہو کر ابھرے گا یا ایک کمزور ریاست کی صورت میں اپنی سرزمین تک محدود ہو جائے گا؟ یا پھر وہ خود کو ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کرے گا جس نے "امریکہ کے خلاف فتح حاصل کی؟" وہ خلیجی ریاستیں جو ایرانی حملوں کا نشانہ بنی ہیں، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس سمت لے جائیں گی؟ کیا خلیجی عرب ممالک

23 جون 2026

Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

کیا ٹرمپ اسرائیل کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ کیا اسرائیل سے ہٹ کر بھی کوئی امریکی انٹیلی جنس موجود ہے؟ کیا امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں دوری آ سکتی ہے؟ خطے کے اصل طاقت ور عناصر متحرک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل ایک ایسی تفصیل بن گیا ہے جسے "کچل کر آگے بڑھ جانا" ہے۔ ہمارے منصوبے اس سے کہیں بڑے ہیں! کمزور ممالک کا اتحاد بھی محض ایک تفصیل ہے!
ابراہیم کاراگُل
ابراہیم کاراگُلینی شفق اخبار کے کالم نگار

کیا ٹرمپ اسرائیل کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ کیا اسرائیل سے ہٹ کر بھی کوئی امریکی انٹیلی جنس موجود ہے؟ کیا امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں دوری آ سکتی ہے؟ خطے کے اصل طاقت ور عناصر متحرک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل ایک ایسی تفصیل بن گیا ہے جسے "کچل کر آگے بڑھ جانا" ہے۔ ہمارے منصوبے اس سے کہیں بڑے ہیں! کمزور ممالک کا اتحاد بھی محض ایک تفصیل ہے!

امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ بظاہر اسرائیل کو شدید پریشانی میں مبتلا کر چکا ہے۔ اگر کوئی حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسرائیل کی بے چینی مزید بڑھ جائے گی اور ممکن ہے کہ یہ خوف میں تبدیل ہو جائے۔ اگر یہ سب کوئی ڈرامہ نہیں ہے، اگر اسرائیلی حلقوں کا ردِعمل مصنوعی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے یہ معاہدہ اسرائیل کو نظر انداز کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس سے دنیا بھر میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ شاید امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کسی قسم کی تبدیلی یا سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہم

18 جون 2026

Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

’ہم سرپرائز وار کی تیاری کر رہے ہیں‘: اسرائیلی چیف آف اسٹاف کا یہ بیان کیا ترکیہ کی جانب اشارہ ہے؟
ابراہیم کاراگُل
ابراہیم کاراگُلینی شفق اخبار کے کالم نگار

’ہم سرپرائز وار کی تیاری کر رہے ہیں‘: اسرائیلی چیف آف اسٹاف کا یہ بیان کیا ترکیہ کی جانب اشارہ ہے؟

اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زمیر کہتے ہیں کہ ’ہم سرپرائز وار (جنگ) کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہمیں ہر محاذ پر چوکنا رہنا ہوگا۔‘ غزہ میں نسل کشی کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ اب کس قسم کی نئی جنونیت کی طرف جا سکتے ہیں۔ اگر اسرائیل کو ’ریاست‘ سمجھنے کے بجائے اسے ایک نسلی نظریاتی ’تنظیم‘ کے طور پر دیکھیں اور پھر اندازہ لگائیں کہ انسانیت دشمن، بگڑی ہوئی قیادت کے زیرِ انتظام ایسی حکومت کیا کرسکتی ہے اور یہ دنیا کو کس سمت دھکیل سکتی ہے۔ اچانک جنگ کس کے خلاف؟ تو پھر یہ ’اچانک جنگ‘ کس کے خلاف ہوگی؟ شام

09 دسمبر 2025

Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

’جو سمجھتے ہیں کہ وہ ترکیہ پر حملہ کرسکتے ہیں، انہیں اندازہ نہیں کہ یہ حکمت عملی کتنی خطرناک ثابت ہوگی‘
ابراہیم کاراگُل
ابراہیم کاراگُلینی شفق اخبار کے کالم نگار

’جو سمجھتے ہیں کہ وہ ترکیہ پر حملہ کرسکتے ہیں، انہیں اندازہ نہیں کہ یہ حکمت عملی کتنی خطرناک ثابت ہوگی‘

وہ اس قدر نفرت کا نشانہ بن چکے ہیں کہ دنیا کے ہر کونے سے، تھائی لینڈ سے لے کر چلی تک، یورپی ممالک سے لے کر دور دراز مقامات تک، انہیں بے دخل کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیل کے حلیف ممالک میں بھی سڑکوں پر یہود مخالف مظاہرے کررہے ہیں۔ کوئی انہیں اپنے ملکوں، شہروں، سڑکوں، ہوٹلوں، ریستورانوں یا کیفے میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ ’مستقبل سوشل میڈیا گلیمر کی طرح نہیں ہوگا‘ چاہے وہ ٹک ٹاک ویڈیوز میں جتنا بھی ہنسیں، چاہے جتنا بھی ناچیں، وہ خود کو زمین پر سب سے زیادہ نفرت کیے جانے والی کمیونٹی بنانے میں کامیاب ہو

01 اکتوبر 2025

Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

افغانستان میں داخل ہونا آسان ہے مگر نکلنا مشکل، کیا طالبان پشتون قوم پرست ہیں؟
انہوں نے اتنا مشکل مسئلہ کیسے حل کر لیا؟
یاسین اکتائے
یاسین اکتائےینی شفق اخبار کے کالم نگار

افغانستان میں داخل ہونا آسان ہے مگر نکلنا مشکل، کیا طالبان پشتون قوم پرست ہیں؟ انہوں نے اتنا مشکل مسئلہ کیسے حل کر لیا؟

طالبان، جو آج افغانستان میں حکومت کر رہے ہیں، اپنے وطن کے دفاع کا 48 سالہ ایک طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ یہ تجربہ قربانیوں، شہادتوں، غازیوں، اسٹریٹجک اور جنگی حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ صبر اور استقامت سے حاصل ہوا ہے۔ ایسی کون سی سوچ، جذبہ یا ابن خلدون کے الفاظ میں ’عصبیہ‘ تھا، جس نے ان لوگوں کو اتنا پختہ کر دیا کہ انہوں نے پہلے روس اور پھر امریکہ کو افغانستان میں مداخلت پر پچھتانے پر مجبور کر دیا اور اور انہوں نے اپنی آزادی کے معاملے پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا؟ جب آپ انہیں قریب سے دیکھتے ہیں تو واضح ہو

19 اگست 2025

Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

’جب اسرائیل کو طاقت سے جواب دینے کا وقت آیا ہے، تو کیا ہم غزہ خالی کرا کے اسرائیل کو بچائیں؟ اور اسے ’ہجرت‘ کہیں؟ ایسی ہجرت حرام ہے!‘
ابراہیم کاراگُل
ابراہیم کاراگُلینی شفق اخبار کے کالم نگار

’جب اسرائیل کو طاقت سے جواب دینے کا وقت آیا ہے، تو کیا ہم غزہ خالی کرا کے اسرائیل کو بچائیں؟ اور اسے ’ہجرت‘ کہیں؟ ایسی ہجرت حرام ہے!‘

غزہ ہمارے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا فلسطینی عوام کی عظیم جدوجہد صرف فلسطین تک محدود ہے؟ یا پھر غزہ میں ظلم اور نسل کشی کی صورتحال خطے کی طاقتور ریاستوں پر بھی کچھ ذمے داریاں عائد کرتی ہے؟ کیا غزہ کے عوام کو بچانے کا واحد حل یہی ہے کہ انہیں ان کے وطن سے نکال کر کہیں اور بسا دیا جائے؟ لیکن کیا یہ جلاوطنی نہیں؟ جبری ہجرت؟ نسلی کشی؟ اور یہ بیانیہ کون پھیلا رہا ہے؟ کون اس سوچ کو ہمارے دل و دماغ میں اتارنے کی کوشش کر رہا ہے؟ کیا غزہ صرف ایک زمین کا ٹکڑا ہے؟ نہیں! غزہ ایک سوچ ہے۔ یہ مزاحمت کی سب سے روشن

16 اپریل 2025

Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026