قطر کے راس لفان گیس کمپاؤنڈ میں دھماکے سے 13 افراد ہلاک، تمام افراد انڈین یا پاکستانی شہری تھے

قطر کے راس لفان کیس کمپاؤنڈ میں گزشتہ روز ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 13 تک پہنچ گئی ہے اور یہ تمام افراد انڈین یا پاکستانی شہری ہیں۔
قطر کے وزیر مملکت برائے توانائی سعد الکابی نے پیر کو اپنے بیان میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ راس لفان کے ایل این جی کمپاؤنڈ میں دھماکہ 'تیکنیکی خرابی' کی وجہ سے ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یہ کوئی تخریب کاری یا حملہ نہیں بلکہ صرف ایک حادثہ تھا جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔'
وزیر مملکت نے کہا کہ واقعے میں 13 افراد کی جانیں گئیں جو پاکستانی یا انڈین شہریت رکھتے تھے۔ ان کے بقول 66 افراد زخمی ہیں جنہیں علاج کی سہولت مہیا کی جا رہی ہے۔ زخمیوں میں قطر، انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، کینیا، گھانا، تنزانیہ، نائجیریا اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔

راس لفان بندرگاہ دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی بندرگاہ ہے اور یہاں ایل این جی برآمد کرنے کی دنیا کی سب سے بڑی سہولت موجود ہے۔ اس سال کے اوائل میں یہ ایرانی حملوں کا نشانہ بھی بنی تھی۔
وزیرِ توانائی نے کہا کہ دسمبر 2025 سے دیکھ بھال کی ہنگامی ضروریات کے باعث پلانٹ کی پیداوار مکمل طور پر بند کی گئی تھی اور اسے صرف دو دن قبل ہی دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا تعین کرنا مشکل ہو گا کہ یہاں کام دوبارہ کب شروع ہو گا۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔