اسرائیل نے ایرانی حکومت گرانے کی غرض سے اسٹارلنک کی انٹرنیٹ ڈیوائسز ایران اسمگل کیں: سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم کا انکشاف

اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے ملک نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے اسٹارلنک کی انٹرنیٹ ڈیوائسز ایران میں اسمگل کیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بنیامن نیتن یاہو کی موجودہ حکومت اس منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے میں ناکام ہو گئی۔
نفتالی بینیٹ جو 2021 سے 2022 تک اسرائیل کے وزیر اعظم رہے ہیں، نے منگل کو یروشلم میں ایک اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے اسٹار لنک کی ہزاروں انٹرنیٹ ڈیوائسز کی خریداری کے بعد انہیں ایران اسمگل کرنا شروع کیا تھا۔ ان ڈیوائسز کے ذریعے انٹرنیٹ اور سوشل نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کی جا سکتی تھی۔
اسٹارلنک ایلون مسک کی ایک کمپنی ہے جو دنیا کے کئی ملکوں میں سیٹیلائٹ انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ ایران ماضی میں اسرائیل اور امریکہ پر الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ اسٹارلنک کی ڈیوائسز ایران میں اسمگل کر رہے ہیں۔
اسٹارلنک کو ایران میں آپریٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے تاہم ایلون مسک کہہ چکے ہیں کہ اس کی سروس ایران میں فعال ہے۔ یعنی اگر کسی کے پاس اسٹارلنک کی ریسیور ڈیوائس ہو تو وہ ایران میں کہیں سے بھی انٹرنیٹ استعمال کر سکتا ہے۔ پھر چاہے حکومت نے پورے ملک میں انٹرنیٹ بند ہی کیوں نہ کر رکھا ہو۔
نفتالی بینیٹ کا کہنا تھا کہ یہ ڈیوائسز حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے پہنچائی گئی تھیں تاکہ وہ ایرانی حکومت کو گرانے کے لیے آپس میں رابطے جاری رکھ سکیں۔
ان کے بقول بدقسمتی سے موجودہ اسرائیلی حکومت نے یہ منصوبہ بند کر دیا۔ اور جب وہاں حال ہی میں مظاہرے ہوئے تو یہ انفراسٹرکچر موجود نہیں تھا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی جانب سے اس بیان پر کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں حکام وقتا فوقتا مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ بند کرتے رہے ہیں۔ اور اس بندش کے دوران بعض افراد کی اسٹارلنک کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی کی خبریں بھی رپورٹ ہو چکی ہیں۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔